ماتحت عدالتیں کس لیے بنائی گئی تھیں،سب کچھ ہم نے کرناہے تونچلی عدالتوں کی کیا ضرورت ہے؟چیف جسٹس کے قتل کیس میں ریمارکس

2019 ,اگست 21



اسلام آباد (مانیٹرنگ رپورٹ) سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم سونا عرف سونی کو بری کرنے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس آسف سعید کھوسہ نے نچلی عدالتوں سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ میں جو کہا گیا وہ میڈیکل رپورٹ سے ثابت نہیں ہوا،30 بورپستول سے فائرہوااورملزم سے کارتوس برآمد کیا گیا، یہ باتیں نچلی عدالتوں کو کیوں نظرنہیں آتیں، ماتحت عدالتیں کس لیے بنائی گئی تھیں، سب کچھ ہم نے کرنا ہے تونچلی عدالتوں کی کیا ضرورت ہے؟ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں قتل کیس کے ملزم کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔

سونا نامی ملزم پر 2004 میں صائمہ اعجازکوقتل کرنے کا الزام تھا، ہائیکورٹ نے ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی تھی ۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نچلی عدالتوں سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ میں جو کہا گیا وہ میڈیکل رپورٹ سے ثابت نہیں ہوا، 30 بورپستول سے فائر ہوا اور ملزم سے کارتوس برآمد کیا گیا،یہ باتیں نچلی عدالتوں کو کیوں نظرنہیں آتیں،ماتحت عدالتیں کس لیے بنائی گئی تھیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سب کچھ ہم نے کرناہے تونچلی عدالتوں کی کیاضرورت ہے؟لگ رہا ہے یہ دن کا واقعہ تھا اوررات کا بنا دیا گیا، سپریم کورٹ نے ملزم کوشک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیدیا۔

    متعلقہ خبریں