دنیا کا وہ شہر جہاں پچھلے 40 دن سے سورج نہیں نکلا

2018 ,جنوری 16



ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک)سردی کا موسم ہو اور سارا دن سورج نا نکلے تو کتنا برا لگتا ہے، لیکن اگر کسی جگہ ایک دو دن نہیں بلکہ اکٹھے 40 دن سورج غائب رہے تو سوچئے وہاں کے باسیوں کے دل پر گیا گزرتی ہو گی؟ یہ قصہ روس کے انتہائی شمالی خطے کا ہے جہاں بالآخر 40 دن پورے ہونے پر سورج کی پہلی جھلک نظر آئی ہے، اور یہی ماجرا ہر سال پیش آتا ہے۔ طویل تاریکی کے بعد اس خطے میں 2018ءکا پہلا سورج طلو ع ہوا ہے۔ 


ٹائمز آف انڈیا کے مطابق آرکٹک سرکل کے شمال میں روسی علاقوں کے باسیوں نے نئے سال کا استقبال بھی تاریکی میں ہی کیا تھا، لیکن جمعہ کے روز بالآخر 40 دنوں کی اس تاریکی کا اختتام ہوگیا۔ اتنے طویل عرصے کے بعد بھی سورج صرف آدھے گھنٹے کے لئے نکلا، لیکن سوا ماہ سے انتظار کرنے والے شہری بے حد خوش تھے۔ ان کی خوشی کا اندازہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی بے شمار تصاویر سے کیا جاسکتاہے جن میں سورج کو طلوع ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔ا گرچہ ہمارے لئے یہ روز کا واقعہ اور معمول کی بات ہے لیکن یہ لوگ ان تصاویر کو سوشل میڈیا پر یوں پوسٹ کررہے تھے جیسے سورج کا طلوع ہونا کوئی انہونی بات ہے۔

 


یاد رہے کہ آرکٹک سرکل کے اندر 24 گھنٹوں سے زائد مسلسل تاریکی ایک قدرتی مظہر فطرت ہے جسے پولرنائٹ کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں 2 دسمبر سے لے کر تقریباً 11جنوری تک مسلسل تاریکی رہتی ہے اور جب 40 دنوں بعد بالآخر سورج طلوع ہوتا ہے تو شہریوں کی بڑی تعداد شہر کی سب سے اونچی چوٹی سولنے شنایا گورکا پر جاکر طلوع ہوتے سورج کا استقبال کرتی ہے۔ چالیس دن بعد پہلے دن سورج تقریباً آدھے گھنٹے کے لئے طلوع ہوتا ہے لیکن پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کا دورانیہ بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ یہ دوبارہ گھٹنے لگتا ہے اور دسمبر کے آغازمیں ایک بار پھر غائب ہوجاتا ہے۔

متعلقہ خبریں