کرتار پور راہداری کھولنے پر امریکہ کا ناقابل یقین موقف سامنے آ گیا

2018 ,دسمبر 1



واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکا نے سکھ یاتیریوں کے لیےکرتار پور راہداری کھولنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام سے پاکستان اور بھارت کی عوام کے باہمی تعلقات میں بہتری آئے گی۔ امریکا نے ہمیشہ جنوبی ایشیا کےدونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں نیوز بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے نائب ترجمان رابرٹ پلاڈینو کا کہنا تھا کہ امریکا نے ہمیشہ جنوبی ایشیا کےدونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔رابرٹ پلاڈینو سے پوچھا گیا کہ آپ سکھ یاتریوں کے مقدس مقام کے لیے پاکستان کی جانب راہداری کھولنے کے اعلان پر کیا کہیں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ کہ ’مجھے کرتار پور راہداری کے بارے میں علم ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھارتیوں کے لیے ایک قسم کا ویزا فری راستہ ہے تا کہ وہ سکھوں کے مقدس مقام پر جاسکیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ اور امریکا بالکل، ہم پاکستان اور بھارت کے درمیا ن عوامی رابطے کے فروغ کا خیر مقدم کریں گے ، میں بس اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں‘۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیراعظم عمرا ن خان امریکا کا دورہ کریں گے یا ٹرمپ حکومت نے پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کے لیے کوئی ملاقات طے کی ؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی کسی ملاقات کا اعلان نہیں کیا جاسکتا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردوں کی معاونت کا الزام اور اس پر وزیر اعظم عمران خان کے ردِ عمل کے بارے میں جب امریکی ترجمان سےپوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو باہمی اعتماد سازی کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں