انا للہ وانا اليه راجعون: معروف شاعر اپنے خالق حقیقی سے جاملے

2018 ,جنوری 5



کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ممتاز بزرگ شاعر رسا چغتائی انتقال کرگئے، مرحوم کچھ عرصے سےعلیل تھے۔تفصیلات کے مطابق اردو کے نامور شاعر رسا چغتائی کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد کراچی میں انتقال کرگئے، مرحوم نے نوے سال کی عمر پائی۔رسا چغتائی کا اصل نام مرزا محتشم علی بیگ تھا وہ 1928 کو بھارتی ریاست جے پور میں پیدا ہوئے رسا چغتائی نے 1950 میں ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی یہاں آکر مختلف اداروں میں ملازمت کی۔

تیرے آنے کا انتظار رہا

عمر بھر موسم بہار رہا

تجھ سے ملنے کو بے قرار تھا دل

تجھ سے مل کر بھی بے قرار رہا

ان کی تصانیف میں : ریختہ، زنجیر ہمسائیگی، تصنیف، چشمہ ٹھنڈے پانے کا، اور تیرے آنے کا انتظار رہا شامل ہیں، حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں سال 2001 میں انہیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا۔واضح رہے کہ معروف شاعر رسا چغتائی نے کہا ہے کہ حبیب جالب عوامی شاعر تھا اور ہمیشہ عوام کی بات کرتا تھا،وہ چاہتا تھا کہ ملک کے شاعر و ادیب ایک جگہ جمع ہوکر ملک میں جمہوریت کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاہم ایسا نہیں ہوسکاان خیالات کا اظہار انہوں نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں حبیب جالب کی 24ویں یاد گاری تقریب کے موقع پراپنے صدارتی خطبے میں کیا،اس موقع پر عوامی ورکرز پارٹی کے سابق صدر عابد حسن منٹو کوحبیب جالب حسن کارکردگی ایوارڈسے بھی نوازاگیا۔رسا چغتائی کا کہنا تھا کہ لوگ حبیب جالب کی بات نہیں سنتے تھےوہ کردار کا بہت سچا تھا اس لئے لوگ مرنے کے بعد بھی آج اسے یاد کرتے ہیں۔حبیب جالب کی یاد میں منعقد جلسے سے بطور مہمان خاص گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی نے کہا ہے کہ جالب کی شاعری ملک کی تاریخ پر مشتمل ہے،ملک میں ہر پارٹی جالب کی شاعری کو اپنے منشور میں لکھتے تو ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے۔ملک میں دو بڑی جماعتوں کے درمیان باری باری اقتدار کی جنگ چل رہی ہے،میں تو کہتا ہوں کہ یہ نورا کشتی ہے۔ہم کو جالب کے پیغام کو آگے بڑھانا ہوگا اور اس کے لئے ہمیں کوشش کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں