”میرے نذر کے ساتھ ایسے ہی تعلقات رہے ہیں جیسے مولوی مشتاق حسین کیساتھ۔ میری ان کیساتھ ملاقاتیں بھی اتنی ہی دفعہ ہوئی ہیں جتنی بار مولوی مشتاق حسین کے ساتھ ۔۔۔“

2019 ,جولائی 8



لاہور (مانیٹرنگ رپورٹ)سینئر صحافی حامد میر نے آج کے کالم میں ایک پرانے واقعہ کا ذکر کیا ہے جو کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانے والے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کے زمانہ وکالت سے جڑا ہواہے کہ جب انہوں نے بطور وکیل عدالت میں ماضی کی گلوکارہ نور جہاں کے ایک کیس میں ان کی نمائندگی کی ۔تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی حامد میر کا اپنی تحریر میں کہناتھا کہ ” یہ ایک ایسے جج صاحب کی کہانی ہے جو کسی زمانے میں بڑے مشہور وکیل ہوا کرتے تھے۔

وکالت کے زمانے میں ا±ن سے کچھ ایسی غلطیاں سرزد ہو گئیں جن کا خمیازہ ا±نہوں نے جج بن کر بھگتا۔ ان جج صاحب کا نام جسٹس مولوی مشتاق حسین ہے جنہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنا کر شہرت حاصل کی۔ یہ جج صاحب صرف نام کے مولوی تھے۔ ا±ن کے چہرے پر کوئی داڑھی نہیں تھی۔ 1953ءمیں مولوی مشتاق حسین ایک نوجوان وکیل تھے۔ اسی زمانے میں ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنے شوہر شوکت حسین رضوی کے خلاف تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کر دیا۔ لاہور کے ایک سول جج چوہدری غلام حسین کی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو مولوی مشتاق حسین نے شوکت حسین رضوی اور اے آر شیخ نے نور جہاں کی وکالت کی۔ نور جہاں کو یہ د±کھ تھا کہ شوکت حسین رضوی نے بغیر ثبوت کے یہ الزام لگایا کہ ا±نکے نذر محمد کے ساتھ تعلقات تھے۔ دوران سماعت مولوی مشتاق حسین نے نورجہاں پر جرح کرتے ہوئے ا±نکے نذر محمد کیساتھ تعلقات کو ثابت کرنے کی کوشش کی تو نورجہاں نے عدالت میں کہا ”میرے نذر کے ساتھ ایسے ہی تعلقات رہے ہیں جیسے مولوی مشتاق حسین کیساتھ۔ میری ان کیساتھ ملاقاتیں بھی اتنی ہی دفعہ ہوئی ہیں جتنی بار مولوی مشتاق حسین کے ساتھ اور یہ اسی سلسلے میں ہوتی رہی ہیں جس سلسلے میں مولوی مشتاق حسین کے ساتھ۔“

    متعلقہ خبریں