گرم پتھر

2019 ,مارچ 21



دوسری جنگ عظیم کی فتح کی بنیاد فیلڈ مارشل برنارڈ منٹگمری نے جنرل رومیل کو شکست دے کر رکھی،منٹگمری کو برطانیہ کے ہیرو کا درجہ حاصل ہے، برطانوی حکمران اور عوام اس فوجی افسر کیلئے دیدہ ودل فرش راہ کئے ہوئے تھے۔ ریٹائرمنٹ پر منٹگمری نے حکومت سے گھر کی تعمیر کیلئے قرض کی درخواست دی۔یہ وزیرِ اعظم چرچل کے سامنے رکھی گئی۔قارئین!ایک لمحے کیلئے توقف،اندازہ کیجئے وزیر اعظم نے اس درخواست پر کیا کہا ہوگا؟۔۔۔ جب جنگ سوا نیزے پر اور دشمن تیزی سے آگے بڑھتا ہی آرہا تھا،دفاعی ماہرین کو بھی شکست نظر آرہی تھی،یہ وہی چرچل ہے جس نے پوچھا کیا ہماری عدالتیں آزاد اور معاشرے میں انصاف ہورہا ہے اگر ہورہا ہے تو ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔چرچل کے فلسفے اتفاق ضروی نہیں مگر اس پر چرچل کا یقین تھا۔اس کے مدِمقابل ممالک جاپان میں کیاظلم روا تھا؟
 اس میں شک نہیں، ریاست کی ترقی اور عوام کی خوشحالی میں نظام عدل کو اولیت حاصل ہے مگرصرف انصاف کے دور دورہ کو جنگوں میں کامیابی کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا‘ جنگیں جیتنے کیلئے دیگر عوامل بھی ناگزیر ہیں: حکمرانوں کی حکمت عملی، جرنیلوں کے کردارو مہارت، فوج کی تعداد،استعداد و تربیت اور اسلحہ کی جدت بھی ضروری ہے۔دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کی کامیابی کی ایک وجہ چرچل جیسی قیادت اور پرل ہاربر پر حملہ کرکے امریکہ کو اس جنگ میں کھینچ لانے کی سازش بھی کارفرما تھی۔
” ہندوستان میں راجاایلان چولان ایلارا نے 205 قبل مسیح سے 161 قبل مسیح تک ریاست انورادھاپورہ پر حکمرانی کی۔ ایلارا انصاف پرور راجا تھا۔ اسکے بیٹے ”ویدھی ویدنگن“ کی رتھ کے نیچے آکرگائے کا بچھڑاکچلا گیا تھا۔ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے ایلارا نے بڑا عجیب فیصلہ کیا۔ بیٹے کو اُسی رتھ کے نیچے کچلنے کا حکم دیدیا۔ ارتھی کو شعلہ دکھانے سے پہلے ایلارا نے ویدھی کے ماتھے پر بوسہ دیا ”ویدھی! تو مجھے بہت پیارا تھا، لیکن انصاف سے زیادہ ہرگز نہیں“۔اس سے زیادہ انصاف پسندی اورانصاف پروری کیاہو سکتی ہے؟پھر آسمان نے یہ بھی دیکھا کہ ایلارا کو نوجوان راجا ”دتوگیمنو“کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ آگ اور ہاتھیوں کی خونریز لڑائی میں جب ایلارا مخالف فوج کے گھیرے میں آیا تو دتو نے اپنی سپاہ کوحکم دیا ”ایلارایک منصف مزاج حکمران ہے۔اس کاقتل بھی ایک انصاف پسند حکمران کے ہاتھوں ہی ہونا چاہیے“دتو نے نیزہ اچھالا جو سیدھا ایلارا کے سینے کے آر پار ہوگیا۔
بہر حال چرچل کو اپنے نظام انصاف پر کامل یقین تھا،اس نے منٹگمری کی درخواست پر نظر ڈالی اورجو کچھ کہا اس سے انصاف کا جادو سر چڑھ کر بولتا نظر آیا:آپ ہمارے ہیرواوروطن کیلئے خدمات نا قابل فراموش ہیں ۔ان خدمات کا آپ کو طے شدہ معاوضہ ملتا رہاہے ۔انصاف کا تقاضہ ہے ،آپ کو قرض اسی صورت دیا جائے اگر حکومت ایسا ہر شہری کیلئے کررہی ہو۔یہ واقعہ پنجاب اسمبلی میں ارکان کی تنخواہوں میں اضافے کے بِل کی متفقہ منظوری سے یاد آگیا،اس بل میں وزیرِ اعلیٰ کیلئے تاحیات گھر گاڑی گارڈجیسی مراعات بھی شامل تھیں۔اس پر وزیراعظم عمران خان ناراض ہوئے تو بل پر نظرِ ثانی کرنی پڑی۔عمران بچت کفائت شعاری کی مہم چلارہے ہیں،ان کو ملکوں ملکوں پھر کر بھیک مانگنے کا طعنہ دیا جاتا ہے،خود پنجاب حکومت کروڑوں روپے کی بچت کی دعویدار ہے،کیا یہ بچت ذاتی مراعات کیلئے کی گئی؟کیا جن علاقوں کی ہمارے فاضل ارکان نمائندگی کرتے ہیں،انکے باسیوں کوارکان جیسی مراعات و سہولیات میسر ہیں؟آپکی خدمات کا طے شدہ معاوضہ مل رہا ہے اگر آپ اسے اپنے شایان شان نہیں سمجھتے تو ایسی نوکری پر لات مارکر ایسا روزگار تلاش کرلیں جس سے خاندان کاگزارہ اور بچوں کی تعلیم و صحت کا سلسلہ چلتا رہے۔لوگ سوال کرتے ہیں کہ آخر قائد حزب اقتدار نے کونسا قلعہ فتح کیا کہ اپنے لئے ناقابل تصور مراعات کا بل منظور کرایا۔کہا جاتاہے عمران خان انہیں فرش سے عرش پر لے گئے وہ انہیں وسیم اکرم پلس کہتے ہیںمگر انہوں نے خود کو منصور اختر مائنس ثابت کیا ہے۔اپوزیشن جو تحریک انصاف کو برداشت کرنے کو تیار نہیں مگر اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لالچ میں وزیر اعلیٰ پر پھول نچھاور کرتی نظر آئی،یہ اس کا وزیراعلیٰ کوبے آبرو کرنے کا ٹریپ بھی ہوسکتا ہے۔
دولت کا خبط اورلالچ انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا،لالچی کا کبھی پیٹ نہیں بھرتاسوائے قبر کی مٹی کے۔ایسے لوگوں کی ذلت و رسوائی کے مظاہر اور مناظر دیکھتی آنکھوں کو نظر آرہے ہیں۔شریف اور زرداری خاندانوں کو کڑے احتساب کا سامنا ہے۔میاں نواز شریف خرابی  صحت کی بنیا پر ضمانت چاہتے ہیں،کیس جسٹس کھوسہ کی عدالت میں ہے،جو سچ کے سفرکے آغاز کا اعلان کرچکے ہیں۔انہوں نے کئی کو جھوٹ کی بنیاد پر قائم مقدمات میں بری کیا،کئی کی ضمانت خارج کی۔سپریم کورٹ میں جو میڈیکل رپورٹس پیش کی گئیں ایک میں عمر 65دوسری میں 69 سال درج ہے۔جعلی اکاو¿نٹس کیس میں بلاول،فریال اور زرداری کی پیشیاں ہورہی ہیں۔ان کے کیسز کو حکومتی بزر جمہر نواز شریف کے ان کیسوں سے کئی گنا سنگین قرار دیتے ہیں جن میں نوازشریف کو سزائیں ہوچکی ہیں۔بلاول کے دل دماغ پر ان مقدمات کازیادہ ہی اثر ہوا۔وہ قومی سلامتی و سالمیت کے منافی بیانات دے رہے ہیں۔ کچھ وزرا کے شدت پسندوں کیساتھ رابطوں کا الزام تو ایک طرف یہ بھی کہہ گئے”دہشتگرد تنظیمیں جو ہمارے بچوں کو مارتی اور دوسرے ممالک جاکر دہشتگردی کرتی ہیں ان کو کیوںکچھ نہیں کہتے ہو“۔پاکستان کی کونسی تنظیمیں باہر جاکر دہشتگردی کرتی ہیں،بلاول نے یہ سب پاکستان کے بارے میں اقوام متحدہ میں ووٹنگ سے چند گھنٹے قبل ایک پُرجوش اورماوارائے ہوش پریس کانفرنس میں کہا۔ ان کا گزشتہ روز کا یہ قول پاکستان کی خارجہ پالیسی پر ڈرون اٹیک ثابت ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کو بھارتی جہازوں کے حملے سے بچانے کیلئے حفاظت میں لیا گیا۔ اس نوجوان کی تربیت ضروری ہے۔ کل خود کیلئے بم ثابت ہو سکتا ہے۔ جنگل میں گرو کے چیلے کوزیوارت کی تھیلی ملی،گُرو نے تھیلی پھینکنے کو کہامگر چیلالالچ میں آگیا۔رات کے پچھلے پہرگُرو کو بتایا،ڈاکووں کا خطرہ ہے نیند نہیں آرہی۔گُرو نے تھیلی پھینکنے کو کہا،چیلا حکم بجا لاکر سکون کی نیند سوگیا۔اپنے دور کی برگزیدہ ہستی بہلول اور خلیفہ ہارون رشیدمیں آخرت میں حساب کتاب کے مشکل و آسان ہونے پربحث ہونے لگی۔بہلول نے کہا ابھی دیکھ لیتے ہیں۔بڑا سا پتھرگرم کرایاجسے چھونا ناقابل برداشت نہیں تھا۔بہلول نے اس پر ہاتھ رکھااور اپنی ملکیتی جائیداد گنوانے لگا،گدڑی جھونپڑی،تن پر زیب کپڑے۔ہارون بھی پتھر پر ہاتھ رکھ کراپنے محلات اور دوسری جائیدادیں بتانے لگاجس کیلئے ایک مدت درکار تھی،چند ثانیوں میں ہاتھ جلنے لگا تو جھٹ سے اٹھا لیا۔وہ یہیں حساب دینے میں ناکام ہو گیا۔ آخرت میں زیادہ سختی ہوگی۔آج کے ”بغلولوں“کی سمجھ میں یہ آجائے تو خود سبکی، جیل ،جلاوطنی اور پریشانی سے بچ جائیںاور کئی لاکھوں کروڑوں کا بھلا بھی ہوجائے۔

متعلقہ خبریں