اپوزیشن کی تحریک ناکام ہونے پر پیپلز پارٹی کے نامور رہنماء سے استعفیٰ دے دیا

2019 ,اگست 1



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) واضح اکثریت کے باوجود چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے ۔صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو اپوزیشن کے کیمپ میں مایوسی پھیل گئی۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر تو ہار سے اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ انہوں نے استعفیٰ دینے کا ہی اعلان کردیا۔ صحافیوں سے گفتگو میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن کو شکست ہر ممبر کیلئے شرمندگی کا باعث ہے، اپوزیشن کے چند ارکان نے غلط کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد ایوان میں بیٹھنا مناسب نہیں سمجھتے اس لیے وہ اپنا استعفیٰ چیئرمین پیپلز پارٹی کو پہنچا دیں گے۔واضح رہے حکومت کے حمایت یافتہ چیئرمین سینیٹ صادق اور اپوزیشن کے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی ہے۔حزب اختلاف چیئرمین سینیٹ کے میر حاصل بزنجو آؤٹ ہوگئے، اپوزیشن کے 64 اور حکمران اتحاد کے 36 سینیٹرز نے پولنگ میں حصہ لیا، تحریک عدم اعتماد کے حق میں50 ووٹ پڑے، جبکہ صادق سنجرانی کو45 ووٹ ڈالے گئے، 5 مسترد قرار پائے، یوں تحریک کوایک چوتھائی ووٹ نہ پڑنے پر مسترد کردیا گیا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کیخلاف قرار داد کے حق میں 32ووٹ آئے،اپوزیشن نے 3 ووٹ کاسٹ کیے۔ بیرسٹر سیف نے بتایا کہ سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک پر سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ چیئرمین سینیٹ کیلئے سینیٹر حافظ عبدالکریم نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔ سینیٹ کے ایوان میں 100 سینیٹرز موجود تھے۔ ن لیگ کے اسحاق ڈار نے سینیٹ کا حلف ہی نہیں اٹھایا، جبکہ مسلم لیگ ن کے چودھری تنویر بیرون ملک ہونے کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔اسی طرح جماعت اسلامی کے دو سینیٹرزنے بھی پولنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس سے قبل اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر سینیٹ کا اجلاس ہوا، پریزائیڈنگ آفیسر کی حیثیت سے بیرسٹرسیف اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں سینیٹر راجہ ظفر الحق نے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی تحریک پیش کرنے کی اجازت طلب کی اور ایوان میں تحریک پیش کردی۔ جس پر تحریک کےحق میں اپوزیشن ارکان اپنے بنچز سے کھڑے ہوگئے۔ ایوان میں تحریک پیش کرنے کی اجازت کے حق میں 64 ارکان کھڑے ہوئے۔ جبکہ تحریک عدم اعتماد کی اجازت کے لیے صرف 26 ارکان کی ضرورت تھی۔

متعلقہ خبریں