ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑی تبدیلی، ایک ہی دن میں کرکٹ کی 142 سالہ تاریخ بدل گئی

2019 ,اگست 1



اوول (مانیٹرنگ ڈیسک ) ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑی تبدیلی، ایک ہی دن میں کرکٹ کی 142 سالہ تاریخ بدل گئی،آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ایشیز سیریز کا آغاز، پہلی مرتبہ کسی ٹیسٹ میچ میں کھلاڑیوں کی شرٹ کی پشت پر نام اور نمبر درج کیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ کی 142 سالہ تاریخ یکم اگست کو بدل دی گئی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی ٹیسٹ میچ کے دوران کھلاڑیوں کی شرٹوں میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔پہلی مرتبہ کھلاڑیوں کی شرٹ کی پشت پر نام اور نمبر تحریر کیے گئے۔ یہ سب کچھ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ایشیز ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ کے دوران ہوا ہے۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان تاریخی ایشز سیریز کے آغاز کے ساتھ ہی کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا آغاز ہو گیا ہے۔ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) کے 12 فل اراکین میں سے 9 ٹیمیں شرکت کریں گی اور یہ تقریباً دو سال تک جاری رہے گی۔اس چیمپیئن شپ کے انعقاد کا مقصد شائقین کرکٹ کی کھیل کے سب سے پرانے اور طویل فارمیٹ میں دلچسپی کو بڑھانا ہے جہاں ٹی20 کرکٹ کی آمد کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں شائقین کی دلچسپی میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے ساتھ ساتھ پاکستان، بھارت، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کی ٹیمیں آپس میں مدمقابل ہوں گی۔یہ ٹیسٹ چیمپیئن شپ 31مارچ 2021 تک جاری رہے گی جس کے بعد چیمپیئن شپ کی صف اول کی دو ٹیموں کے درمیان فائنل کے ذریعے چیمپیئن شپ کے فاتح کا فیصلہ کیا جائے گا۔اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 27 سیریز کھیلی جائیں گی۔انٹرنیشنل کرکٹ میں ٹیسٹ کی بہترین ٹیم کے تعین کے لیے رینکنگ سسٹم کئی سالوں سے لاگو ہے جس کے ذریعے ہر سال یکم اپریل کو عالمی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم کو ٹرافی اور انعامی رقم دی جاتی ہے۔البتہ اس ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے ذریعے ناصرف شائقین کرکٹ کی ہر سیریز میں دلچسپی برقرار رہے گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہر سیریز کا نتیجہ ٹیبل کی نمبر ایک اور نمبر دو پوزیشن پر اثرانداز ہو گا۔ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے دوران ہر ٹیم کم از کم تین ہوم اور تین اوے سیریز کھیلے گی، ہر سیریز کے دوران کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ پانچ ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے۔
اس طرح ہر ٹیم تمام ٹیموں کے خلاف ٹیسٹ سیریز نہیں کھیل سکے گی جبکہ اس دو سال کے عرصے میں کھیلے جانے والی ہر سیریز ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ نہیں ہو گی بلکہ کچھ سیریز فیوچر ٹور پروگرام کے تحت بھی کھیلی جائیں گی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس بات کا فیصلہ دو ٹیموں کے کرکٹ بورڈ کریں گے کہ کونسی سیریز فیوچر ٹور پروگرام کے تحت کھیلی جائے گی اور کس سیریز کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپین شپ کے تحت کھیلا جائے گا۔ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا پوائنٹس سسٹم تھوڑا پیچیدہ ہے جہاں ہر سیریز کے لیے 120پوائنٹس مختص کیے گئے ہیں جسے ہر سیریز کے ٹیسٹ میچوں کی مناسبت سے برابر تقسیم کیا جائے گا۔مثلاً ایشز سیریز میں پانچ ٹیسٹ میچ کھیلے جائیں گے تو اس طرح ہر ٹیسٹ میچ میں فتح کے 24پوائنٹس ہوں گے، اسی طرح اگست میںبھارت اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ ساتھ سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلی جانے والی دو، دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ہر ٹیسٹ میچ میں فتح کے لیے 60پوائنٹس ہوں گے۔اگر میچ ڈرا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں فتح کے ’ایک تہائی‘ پوائنٹس ہر ٹیم کو دے دیے جائیں گے، مثلاً ایشز سیریز کا ایک ٹیسٹ ڈرا ہونے پر ہر ٹیم کو 8 اور دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 20 پوائنٹس دیے جائیں گے۔اگر کوئی ٹیسٹ میچ ٹائی ہوتا ہے تو ہر ٹیم کو فتح کے مقابلے میں آدھے پوائنٹس دیے جائیں گے۔ سیریز میں 20 پوائنٹس دیے جائیں گے۔اگر کوئی ٹیسٹ میچ ٹائی ہوتا ہے تو ہر ٹیم کو فتح کے مقابلے میں آدھے پوائنٹس دیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں