نیب کا زرداری پر سخت شکنجہ ۔۔ سابق صدر نے بھی بڑی چال چل دی ، پیپلز پارٹی اب ٹرین مارچ کے بعد کیا کرنے جا رہی ہے ؟ بڑی سیاسی خبرآگئی

2019 ,مارچ 29



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پارک لین کمپنی کیس میں نیب کے سوالنامے پر آصف زرداری نے جواب تیار کرلیا، جو آئندہ ہفتے جمع کرایا جائے گا، آصف زرداری نے نیب کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے اپنے جواب میں کہا قانون کے تحت نجی کمپنی کے معاملات پر نیب کارروائی نہیں کرسکتا، پارتھینون کمپنی کو نیشنل بینک کے ڈیڑھ ارب روپے قرض کا علم نہیں، پارک لین کمپنی 1989 میں صدرالدین ہاشوانی سے خریدی، کم عمر بلاول، اقبال میمن، رحمت اللہ، محمد یونس، الطاف حسین شراکت دار تھے، سابق صدر نے اپنے جواب میں مزید کہا کہ پارک لین کمپنی میں صرف 25 فیصد حصص کا مالک تھا، صدر بننے سے پہلے یکم ستمبر 2008 کو کمپنی ڈائریکٹرشپ سے مستعفی ہوگیا، میرا اور بلاول بھٹو کا پارتھینون کمپنی سے کوئی تعلق نہیں، پارک لین کمپنی میں ایک چھوٹا شراکت دار ہوں، نجی کمپنی سے متعلق نیب کا سوالنامہ اختیارات سے تجاوز ہے، دوسری جانب خبر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کے مشیرمرتضیٰ وہاب نے اعجاز شاہ کو وفاقی وزیر بنائے جانے کو معنی خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اپنی زندگی میں اعجاز شاہ سے جان کا خطرہ ظاہر کیا تھا، ایک بیان میں مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ مشکوک کردار کے افراد وفاقی کابینہ میں شامل کئے جا رہے ہیں، اعجاز شاہ مشرف کے آمرانہ دور کی باقیات ہیں، مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ یہ کیسی مدینہ کی ریاست ہے جہاں اعجاز شاہ جیسے لوگ وزیر بن جاتے ہیں، پیپلز پارٹی کیلئے اعجاز شاہ دراصل ’’ انتقام شاہ‘‘ ہیں انہوں نے کہا کہ شہید بی بی کے قتل پر انصاف نہ ملا مگر مشکوک کردار کے افراد وزیر بن گئے، اور اب یہ خبر ہے کہ پارک لین کمپنی کیس میں نیب کے سوالنامے پر آصف زرداری نے جواب تیار کرلیا، جو آئندہ ہفتے جمع کرایا جائے گا، آصف زرداری نے نیب کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھائے۔

متعلقہ خبریں