نیا دور پرانی روایت

2018 ,اگست 19



پاکستان میں نئے دور کا آغاز نئے انداز سے ہوا۔ مگر پرانی ذہنیت مزید شدت سے ہویدا ہوئی۔ عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی انکی سب سے بڑی سیاسی حریف مسلم لیگ نوازکے برداشت، صبر اور تحمل کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔وزیراعظم کے انتخاب کی تقریب ہمیشہ پروقار ہوا کرتی تھی۔ نوے کی دہائی میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے اختلافات ذاتیات اوردشمنی تک چلے گئے تھے۔ان دنوں بھی اسمبلی کے اندر وزیراعظم کا انتخاب پرامن ہوتا رہا، قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر ایک دوسرے کی بات سنتے ہنگامہ آرائی نہیں ہوتی تھی۔ اس مرتبہ جو ہوا وہ وزیراعظم کے انتخاب پر پہلے کبھی نہیں ہوا۔یہ نہیں کہ لوگ طوفان اٹھانے سے ناواقف تھے۔آئینی تقاضے کے تحت سال میں صدر ایک بار پارلیمنٹ سے خطاب کرتا ہے۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے اپنے اپنے ادوار میں مخالف پارٹی کے صدر کی تقریر کے دوران عموماً اودھم مچاتی رہی۔کمانڈو صدر مشرف لیگی ہاکس کے خوف سے یہ آئینی تقاضہ پورا کرنے سے قاصر رہے۔ بجٹ کے مواقع پر وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران بھی ہلڑ بازی معمول رہا۔ مگر وزیراعظم کے انتخاب کے دوران اس مرتبہ جو ہوا وہ نہایت افسوسناک ہے۔ پوری دنیا کی نظریں اس انتخاب پر تھیں، میڈیا میں براہ راست کوریج ہو رہی تھی۔ لگتا تھا دونوں پارٹیاں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف پارلیمنٹ میں نہیں کسی میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ برسرپیکارسینگ پھنسا رہی ہیں۔
عمران خان کو مفاہمت کی تقریر کرنا چاہئے تھی بقول شاہ محمود قریشی وہ اسی کی تیاری کرکے بھی آئے تھے۔ مگر انکی تقریر سے قبل مسلم لیگ نون کی طرف سے جو ہنگامہ آرائی ہوئی اس نے عمران خان کی ساری پلاننگ اتھل پتھل کردی۔ انہوں نے مفاہمانہ تقریر تج کر رکھ دی اور حالات کے مطابق بات کی۔ دوسرے لفظوں میں مسلم لیگ نون کی ہنگامہ آرائی نے خان کو مشتعل کرکے پٹڑی سے اتار دیا۔عمران خان نے کچھ باتیں بہت اچھی بھی کیں مگر انکے اطوار اور لب ولہجے سے لگا ، وہ 2014 کی طرح کنٹینر پر کھڑے ہو کر یوتھ کے حوصلے بڑھا رہے ہیں۔ جواب میں میاں شہباز شریف نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ انکے انداز بیاں سے لگ رہا تھا وہ کسی کو بھاٹی چوک میں گھسیٹ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے صبر و برداشت سے کام لینے کی ضرورت تھی،ان کا اپر ہینڈ تھا مگر پارٹی اپنے لیڈر سمیت جذبات کا شکار ہوئی اور اینٹ کا جواب اینٹ سے دینے لگی۔ پیپلز پارٹی کا رویہ مثبت رہا، بلاول کی تقریر کی عمومی ستائش کی جا رہی ہے۔ وہ دن جو سہانا ہونا چاہیئے تھا ایک ڈرائونے خواب کی طرح گزرا۔ اس دن کے حوالے سے ایک افسوسناک یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔
مسلم لیگ نون کا مطالبہ ہے کہ دھاندلی کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے جو ایک ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے۔ایسے کمیشن کی پی ٹی آئی نے مخالفت نہیں کی۔ شاید لیگی لیڈر مولانا فضل الرحمٰن اور پی ٹی آئی فواد چودھری جیسی شخصیت کو کمیشن کا ہیڈ لگانا چاہتی ہو مگر موزوںآج کے نگران وزیراعظم ناصر الملک ہو سکتے ہیں۔ وہ پہلے بھی ایسے کمیشن کی سربراہی کرچکے ہیں۔وہ موجود ہیں، وہی الزامات ہیں۔ ٹی او آرز پہلے ہی بن چکے ہیں۔فیصلہ بھی انکے پاس موجود ہے۔ رپورٹ کا فیصلہ ایک ماہ سے قبل آسکتا ہے۔
پنجاب اسمبلی میں سپیکر کے انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوارچودھری پرویزالٰہی کو اپنی تعداد سے 15 ووٹ زیادہ ملے۔اسکے بعد مسلم لیگ نون کا اجلاس ہوا تو انکے لوگ پورے تھے۔ پرویز الہٰی کو 15 ووٹ زیادہ مل جانا انکی شخصیت کے طلسم کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے مگر یہ ووٹ دینے والوں کی بے ضمیری اور ٹکٹ دینے والی لیڈر شپ کے وژن پر بھی سوالیہ نشان ہے۔اس طرح کی روایتیں مسلم لیگ نون کی قائم کردہ ہیں جو بہت پرانی بھی نہیں ہیں۔ 2008 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ نون نے ق لیگ کے اندر 44 لوگوں کا فارورڈ بلاک بنوایا جو پانچ سال قائم رہا۔چھانگا مانگا سیاست سب کو ازبر ہے‘ اسکے جواب میں پیپلزپارٹی نے بھوربن میں سیاست کے نئے سوتے جگا دیئے تھے۔آج جو کچھ مسلم لیگ نون کے ساتھ ہوا اسے مکافاتِ عمل کہیں یا یہ کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، لہذا تحریک انصاف نے جو کیا وہ درست کیا۔ مگر تحریک انصاف کے ایسے کسی اقدام کی قطعی حمایت نہیں کی جا سکتی ۔ایک غلط، غیر اخلاقی اور اصولوں کے خلاف کام ہوا، اسے ماضی کے کسی ایسے ہی اقدام کا حوالہ دے کرجائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چوہدری پرویز الہی اپنے اثرورسوخ سے 15 باغیوں میں زیادہ اضافہ کر لیتے ہیں تو 2008 میں انکے ساتھ کیے گئے سلوک کا بدلا تو ہو سکتا ہے مگر یہ عمران خان کی صاف ستھری سیاست کے نظریات کی سراسر خلاف ورزی ہوگی۔ 
عمران خان کے پروگرام اور ایجنڈے سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں ایک بار پھر عزم ظاہر کیا وہ قوم کا لوٹا ہوا سرمایہ پاکستان لائیں گے۔ عوام نے انہیں دعووں اور وعدوں کی بنیاد پر ووٹ دیا۔ مگر اسکی زد میں جو لوگ آئیں گے وہ انتقام انتقام کی دہائی ضرور دیں گے۔
اقتدار کے خمار میں کچھ لوگ بالکل اندھے ہو جاتے ہیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے وزیر اعلی پنجاب کے لیے اچھے امیدوار کو سامنے لایا گیا۔ ان کو کمزور وزیراعلیٰ سمجھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ جیسا بھی ہو جو بھی ہو اس کو اقتدار مضبوط بنا دیتا ہے۔ ویسے بھی انکی طاقت گورنر سرور اور سپیکر صوبائی اسمبلی پرویزالٰہی ہو سکتے ہیں۔
جنوبی پنجاب کی تشکیل پر رائے عامہ یکسو نہیں ہے۔ اسکی حمایت اور مخالفت کی جاری ہے تاہم اب یہ صوبہ عملی شکل اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔ اسکے مثبت منفی نتائج ہو سکتے ہیں اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ صوبہ جنوبی پنجاب بنتا ہے تو مزید بہت سے صوبوں کے قیام کے مطالبات سامنے آئیں گے۔ تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی حمایت کر چکی ہیں۔ اب انکی طرف سے پسپائی کا راستہ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں