خواتین کا میڈیا میں کام کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ نامور سعودی عالم دین نے نیا فتوٰی جاری کر دیا

2019 ,مارچ 14



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ممتاز سعودی عالم ڈاکٹر عبداللہ المطلق نے اپنے تازہ ترین فتویٰ میں خواتین کے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر کام کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر المطلق نے کہا کہ خواتین ذرائع ابلاغ کے ذریعے دینی و سماجی علوم اور نیکی کے کاموں کا پرچار کر سکتی ہیں۔ یہ بات انہوں نے ایک سعودی ٹی وی چینل پر پیش کیے جانے والے دینی پروگرام کے دوران کہی، ایک شخص نے اُن سے سوال کیا کہ کیا خواتین سوشل میڈیا اور دیگر میڈیا پر کام کر سکتی ہیں تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت بعض چینلز سے خواتین دینی اور تبلیغی پروگرام پیش کر رہی ہیں۔ ایسا کرنے میں کوئی مناہی نہیں تاہم اس دوران حجاب کی پابندی کا خیال رکھنا لازمی ہے، خواتین کو اسلام کے پرچار میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینا چاہیے۔ مرد حضرات کی خواتین کی آواز سُننے میں کوئی قباحت نہیں، کیونکہ ان دِنوں ریڈیو اور ٹی وی پر سوال کرنے والوں میں پچاس فیصد تعداد خواتین کی ہی ہوتی ہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر المطلق شاہی ایوان کے مشیر ہونے کے علاوہ مملکت کے اہم علماء بورڈ کے رُکن بھی ہیں۔ڈاکٹر عبدالمطلق نے کچھ عرصہ قبل سعودیوں کو تاکید کی تھی کہ وہ ایک سے زائد شادیاں کریں تاکہ مطلقہ خواتین اور بڑھتی عمر کی حامل کنواری خواتین کو تحفظ مِل سکے، شیخ المطلق نے کہا کہ اسلام کی رُو سے کثیر الازدواجی کی ممانعت نہیں ہے۔البتہ بعض اوقات معاشرے میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے جبکہ بعض صورتوں میں یہ جْرم کی شکل اپنا لیتا ہے۔کسی سماج میں زائد عمر کی کنواریوں اور مطلقہ خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو جانے کی صورت میں ایک سے زائد شادیاں ضروری ہو جاتی ہیں تاکہ مذکورہ خواتین کو سہارا مِل سکے، اس وقت بہت سی بچیاں جوانی ڈھلنے کے باوجود شادی شْدہ زندگی کی خوشیوں سے محروم ہیں۔ جبکہ کچھ خواتین طلاق یافتہ ہونے کے بعد تنہائی، بے بسی اور کسمپْرسی کا جیون بِتانے پر مجبور ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ایک سے زائد شادیاں کریں۔ جبکہ بیویوں کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہروں کی دْوسری شادیمیں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے اس نیک کام میں اْنہیں اپنا بھرپور تعاون دیں۔ البتہ مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ یکساں حْسنِ سلوک اور مساوات کا رویہ اپنائے تاکہ خانگی تلخیاں جنم نہ لیں۔

متعلقہ خبریں