صاحب ِکردار

2018 ,مئی 2



کسی نے پاکستان کے دس بڑے ڈان کی رپورٹ مرتب کی ہے۔ اس میں الطاف حسین کو سب سے بڑا ڈان قرار دیا گیا ہے۔ہم پانط ڈانز کی بات کرتے ہیں۔ رپورٹ کیمطابق: سیٹھ عابدکو پانچویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔انکا شمار پر اسرار ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ بظاہر تو وہ ایک بزنس مین تھے لیکن ان کا نام گولڈ اور ڈرگس کی سمگلنگ کے ساتھ جڑا ہے۔ کچھ پُر اسرارواقعات بھی ان سے منسوب ہیں۔جب امریکہ نے پاکستان کوایٹمی پلانت دینے پر پابندی لگا دی تو یہ سیٹھ عابد ہی تھے جنہوں نے فرانس سے ایٹمی پلانٹ بحری راستے سے پاکستان پہنچایا۔ 
نوری نت کا چوتھا نمبرہے،نوری نام نور الدین تھا۔ جس کا شمار پاکستان بننے کے دور میں انڈر ورلڈ سے تھا۔ یہ انڈیا سے سمگلنگ کرتے تھے۔ تقسیم کے دوران سکھوں اور ہندوئوں کے قتل میں نوری نت ملوث تھا۔تیسرے نمبر پر چودھری اسلم عرف جگا گجرہے۔1960ء اور 1970ء کے دور میں کافی ساری مارکیٹس جگا کو بھتہ دیتیں جسے جگا ٹیکس کا نام دیا جاتا ہے۔ان کو ایوب دور میں پولیس حراست میں قتل کر دیا گیا۔نمبر2پر عزیر بلوچ ہے ۔یہ علاقے میں کرائم لارڈ اور پیپلز امن کمیٹی کا صدر تھا۔ عزیر بلوچ نے انڈر ورلڈ کی دنیا میں اپنے باپ کے قتل کے بعد قدم رکھا۔ عزیر بلوچ کے کرائم میں 100سے زیادہ پولیس والے اور مخالف گینگ والوں کو ٹارگٹ کلنگ اور ایران کی خفیہ ایجنسی کو پاکستان آرمی کی خفیہ معلومات دینا ہے۔29دسمبر 2013ء کو انٹر پول نے دبئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے عزیر بلوچ کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کیا۔ پاکستان کا سب سے بڑااور نمبر ون ڈان اور مافیا الطاف حسین ہے۔ گینگ وار، گینگ کلنگ ، ڈرگز، سمگلنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ بھی اسکے پورٹ فولیو میں شامل ہے۔ لگ بھک 10ہزار لوگوں کو اس کے دور میں کراچی میں قتل کیا گیا جن میں سے بیشتراسکے مخالف اور عام لوگ تھے۔ 1992ء کے کراچی آپریشن کے بعد الطاف حسین ملک چھوڑ کر بھاگ گیا۔ لیکن اپنا کام نہیں چھوڑا۔2014ء اور 2016ء کراچی آپریشن کے دوران اتنا اسلحہ نکلاکہ تقریباََآرمی کے ایک بریگیڈ کومسلح کرنے کے لیے کافی تھا۔
مافیا ڈانز کی مزید بگڑی ہوئی شکل ہے سسلین مافیا تو مافیاز کا بھیانک روپ ہے‘ ان کی تعریف ہی خوفناک ہے۔ ان کو نرم الفاظ میں بھی بے باپ کی اولاد قرار دیا جاتا ہے۔ کسی بھی ملک کی لیڈر شپ کیلئے ایسے الفاظ کا استعمال افسوسناک ہے۔
ہماری لیڈرشپ ’’صاحب کردار‘‘ ہے یا نہیں’’ قوم‘‘کے لئے قابلِ احترام ضرور ہے مگر صادق اور امین کے درجے پر کسی طور نہیں پہنچتی۔صادق اور امین نبی کریمؐ کی ذات کیلئے رحمت للعالمین ہی کی طرح مختص ہے۔ محسن انسانیت بھی صاحب لولاکؐ کو زیبا ہے۔ آئین میں صادق اور امین ہونا لازم قرار دیا گیا ہے۔ صادق اور امین کو صاحبِ کردار کے الفاظ سے بدلا جا سکتا ہے۔ مقصد یقینا دیانتدار اور سچا لیا جائے گا۔
لیڈرشپ نہ صرف عوام کی رہنمائی کرتی ہے بلکہ خود بھی اخلاقیات کا ایک نمونہ بن کر عوام کی تربیت کرتی ہے۔ قوم کی بات اس لئے نہیں کی کیونکہ کوئی بھی قوم کا متفقہ لیڈر نہیں ہے۔ ہمارے سیاسی لیڈر قوم یعنی 22 کروڑ عوام کے حقوق اور ان کی رہنمائی کے دعوے کرتے ہیں۔ ان کے نکتۂ نظر سے قوم ان کے ساتھ ہے۔ جو عوام ان کے ساتھ ہیں وہی قوم کا درجہ رکھتے ہیں۔ 
آج پاکستان کی سیاست میاں نوازشریف‘ آصف علی زرداری اور عمران کے گرد گھومتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن‘ اسفند یار ولی‘ سراج الحق‘ محمود اچکزئی جیسے لیڈر بھی ہیں جوانہی شخصیات کے گرد گھومتے ہیں۔ اس ساری لیڈرشپ کی کارکردگی مایوس کن ہو سکتی ہے مگر ان سے قوم کبھی مایوس نہیں ہوئی۔ قوم کیلئے یہ ایماندار‘ سچے اور دیانتدار یعنی صاحب ِکردار ہیں۔ قوم کی پہلے تعریف کر دی ہے‘ ہر لیڈر کے چاہنے والے اس کیلئے قوم ہیں۔ ’’قوم‘‘ کی صاحب کردار لیڈرشپ کے ایک دو روز کے بیانات ان کی شخصیت کو نکھار کر سامنے لا تے ہیں۔ عمران خان نے مینار پاکستان پر ایک بڑا جلسہ کیا۔ اس میں ’’قوم‘‘ کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ عمران خان نے رُلا‘ ہنسا اور دل جلا دینے والی باتیں کیں۔ اپنا ادھورا منشور بھی 11 نکات کی صورت میں بیان کر دیا۔ عمدہ نکات ہیں، مگر پاکستان بھارت تعلقات‘ مسئلہ کشمیر‘ سی پیک اور کالاباغ ڈیم جیسے ایشوز منشور سے باہرہیں۔ خان ’’باہر‘‘ کے پڑھے ہیں۔ جس بے تہذیبی سے نوازشریف اورزرداری کو مخاطب کر رہے تھے‘ لگتا ہے درس گاہوں کے باہر بیٹھ کر پڑھے ہیں۔عمران خان کو میاں نوازشریف نے بھی اسی لب و لہجے میں جواب دیا۔ ساتھ آصف علی زرداری کو بھی رگیدا۔میاں محمد نوازشریف نے کہا ، میں صرف عمران خان کو چیلنج نہیں کرتا کیوں کہ وہ تو جھوٹ بولنے کا عادی ہے۔آصف زرداری دھوکے باز ہیں وہ اب بھی عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ مشرف امریکہ کے سامنے لیٹ گیا تھا۔ نوازشریف نے پارٹی کے رہنماؤں کو ’’آخری جنگ‘‘ لڑنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ میں ڈٹ جاؤں گا مقابلہ کروں گا پیچھے نہیں ہٹوں گا‘‘۔
سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ نوازشریف کے ذہن میں فوج کے حوالے سے فتور ہے، وہ جو قبر کھود رہے ہیں اس میں خود گریں گے، میری منی ٹریل تلاش کی جارہی ہے جبکہ میرا ایک ڈالر کا اکاؤنٹ اور پراپرٹی نہیں ہے۔
زرداری صاحب نے بھی بغیر لگی لپٹی کے میاں صاحب کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم نواز شریف کو جتنا بھولا سمجھتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ موقع پرست ہیں، اس نے ہمیں ہر موقع پر بیچا، ہم سیاست اور نوازشریف تجارت کرتے رہے۔ نوازشریف اپنے قریبی افسر کے ذریعے مجھے پیغام بھجواتے رہے، ہم سویلین بالادستی کی نیت سے نوازشریف کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔ میں نے پر ویز مشرف کے مواخذے کا اعلان کیا تو نواز شریف پیچھے ہٹ گئے ۔ نواز شریف نے یقین دلایا کہ وہ پرویز مشرف کو جانے نہیں دیں گے، میں نے یقین کر لیا اور بلے کو جانے نہ دینے کا بیان دیا مگر نواز شریف نے پرویز مشرف کو باہر بھجوا دیا، پتہ چلا نواز شریف جب مجھے یقین دلا رہے تھے اس سے پہلے ہی وہ پرویز مشرف کے معاملے پر ڈیل کر چکے تھے۔ میرے اینٹ والے بیان کے پیچھے بھی نوازشریف کی چال تھی اس بیان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نواز شریف نے راحیل شریف سے معاملات سیدھے کرنے کی کوشش کی۔ وہ اپنا کیا خود بھگتیں، میں اب کسی صورت اس سے ہاتھ نہیں ملائونگا۔ زرداری صاحب ایسے اخفش، سادہ اور معصوم، واہ میاں نوازشریف کے جال، چال اور چکر میں آگئے۔ (کسی زمانے میں اخفش اپنی بکری کے سامنے سبق دہراتا جب بکری سر نیچے کرتی تو سمجھتا اس نے سبق یاد ہونے کا اشارہ کردیاہے) اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ آپ کے مابین دوستی کے دنوں میںجو معمولات و معاملات رہے، پلاننگ و منصوبہ بندی خواہ سازشوں کے زمرے میں آتی ہوں وہ ایک امانت بن جاتی ہے ۔ راز موت تک سینے میں دفن ہوتے ہیں۔ ادھر خواجہ آصف بھی زداری صاحب سے قرض چکانے یا میاں نواز شریف پر احسانات جتانے کیلئے لب کشا ہوئے۔ خواجہ آصف نے مسلم لیگ (ن) کی طرف سے پیپلز پارٹی پر ’’احسانات‘‘ کا انکشاف کرتے ہوئے کہا مسلم لیگ (ن) نے آصف علی زرداری کی خواہش پر مخدوم امین فہیم کا راستہ روکنے اور آصف علی زرداری کے لئے صدارت کے منصب تک پہنچنے میں مدد کی۔ امین فہیم کو وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا جا چکا تھا۔ دو چار ہاتھ جب لب بام رہ گیا تو خواجہ آصف کا بیان سامنے آیا، ’’امین فہیم کے مشرف سے رابطے ہیں‘‘ آج پتہ چلا کہ یہ بیان ایک پلاننگ کے تحت دیا گیا تھا اور اس سازش سے آج خود خواجہ نے پردہ اٹھا دیا ہے۔
ہماری لیڈرشپ صاحبِ کردار ہے۔ ان کی باتوں پر اعتماد کرنا چاہئے۔ ان کے ایک دوسرے پر الزامات من و عن تسلیم کر لئے جائیں اور ایک ٹروتھ فائنڈنگ کمشن بنا دیا جائے جس میں ان لوگوں نے جو کہا‘ اسے ثابت کرنے کیلئے کہا جائے۔ اس کے مطابق قانون اپنا راستہ خود بنا لے گا۔ اس کے بعد جو بچا ‘صاحب کردار ہوگا۔

متعلقہ خبریں