پرویز مشرف نے جب پہلی بار مجھے دیکھا تو بجائے ہاتھ ملانے کے میرے ساتھ کس انداز کیساتھ ملے تھے ؟ پاکستانی خاتون پائلٹ کا تہلکہ خیز انکشاف

2019 ,مئی 12



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا پر دنیا کی پہلی با ہمت اور باحجاب پاکستانی خاتون پائلٹ کا ایک واقعہ گردش کر رہا ہے جسے پڑ کر آپ بھی پاکستان کی اس بہادر بیٹی پر فخر کریں گے ۔ڈاکٹر شہناز لغاری کہتی ہیں کہ میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی، وہاں حجاب لباس کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ سو شروع ہی سے حجاب لیا. ہاں شعوری طور پر حجاب کی سمجھ آج سے پندرہ سال پہلے آئی جب خود قرآن کو اپنی آنکھوں سے پڑھنا اورسمجھنا شروع کیا، ہم جس ماحول میں پروان چڑھے وہاں حیا اور حجاب ہماری گھٹیوں میں ڈالا گیا تھا۔ سو الحمدللہ کبھی حجاب بوجھ نہیں لگا،حجاب کی وجہ سے کبھی کوئی پریشانی یا رکاوٹ نہیں آئی بلکہ میرا تجربہ قران کی اس آیت کے مترادف رہا ’’تم پہچان لی جاو اور ستائی نہ جاو‘‘ الحمدللہ! حجاب نے میری راہ میں کبھی کوئی مشکل نہیں کھڑی کی بلکہ میں نے اس کی بدولت ہرجگہ عزت اور احترام پایا، اک واقعہ سنانا چاہوں گی، پرویز مشرف دور میں پاک فوج کی ’ایکسپو ایکسپو2001‘ منعقد ہوئی تھی، یہ ایک بڑی گیدرنگ تھی۔ اس کی تقریب میں واحد باحجاب میں ہی تھی، کچھ خواتین ( آفیسرز کی بیگمات ) نے اشاروں کنایوں میں احساس دلایا کہ ایسی جگہوں پر حجاب کی کیا ضرورت!! میں مسکرادی، کچھ دیر میں جنرل مشرف خواتین سے سلام کرنے لگے، خواتین جاتیں، ان سے ہاتھ ملاتیں، ان کے ساتھ لگ لگ کر تصاویر بناتیں، میں کچھ اندر سےگھبرائی ہوئی تھی، اسی اثنا میں جنرل مشرف میری جانب مڑے، مجھے حجاب میں دیکھا تو اپنے دونوں ہاتھ کمر پر باندھ لیے اور جاپانیوں کے طریقہ سلام کی طرح تین بار سر جھکا کر سلام کیا۔ خواتین کا مجمع میری جانب حیرت سے تک رہا تھا، میری آنکھوں میں نمی اور فضاوں میں میرے رب کی گونج سنائی دے رہی تھی “تاکہ تم پہچان لی جاو اور ستائی نہ جاو”۔ دوسری جانب آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کشمیر ہماری رگوں میں دوڑتا ہے کشمیری میری جان ہے ،ْکشمیریوں کی خوشحالی،سلامتی ،آزادکشمیر کی ترقی اور مقبوضہ کشمیر کی غاصب ہندوستان سے آزادی میری اولین ترجیحی وسوچ ہے ،آزادکشمیر کے غیور اور محنت کش عوام سے خطاب کرنا میرے لیے باعث فخر وخوشی ہے آج کھل کر بات کروں گا کہ نام نہاد پاکستانی لیڈروں نے پاکستان اور کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ،مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پر پاکستانی حکمرانوں اور سیاسی قیادت کی خاموشی کی وجہ مودی سرکار اور ہندوستانی فوج کو کشمیریوں پر مظالم کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے آزادکشمیر کی ترقی میری اولین ترجیحی ہے 2005ء کے زلزلہ میں آزادکشمیر اور ہزارہ ڈویژن میںزلزلہ نے تباہی مچائی متاثرین زلزلہ کی آبادکاری کے لیے ہم نے دنیا کے 76ملکوں سے مدد مانگی جنہوں نے اعتماد کرتے ہوئے 6.4ارب ڈالر بطور امداد ہمیں دیے ،جس سے متاثرین زلزلہ کی بحالی اور تباہ حال املاک کی تعمیر نو ممکن ہوئی ،اگر ہم پر دنیا اعتماد نہ کرتی تو وہ ہمیں یہ رقم مدد کے لیے نہ دیتی ،اگر ہم آج کے پاکستانی سیاست دانوں کی طرح ناکارہ ہوتے تو ہم پر کبھی کوئی اعتماد نہ کرتا ،آزادکشمیر یونیورسٹی ،سکولز،کالجز ،صحت کے مرکز،سڑکیں ،پانی ،وبجلی ،تین لاکھ سے زائد زلزلہ پروف گھروں کی تعمیر جیسے اقدامات کیے۔ اور لاکھوں متاثرین زلزلہ کو نقد امداد بھی دی گئی ۔

متعلقہ خبریں