بی جے پی رہنما کا علی گڑھ یونیورسٹی سے قائد اعظم کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ

2018 ,مئی 1



نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک): بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ستیش کمار نے علی گڑھ یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یونیورسٹی پر آویزاں محمد علی جناح کا پورٹریٹ فوری طور پر ہٹائے۔  نام نہاد جمہوری بھارتی حکمران جماعت بی جے پی ملک میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے اور ہندو انتہا پسندوں کے ذریعے آئے روز مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور اپنے ہی ہندوں دلتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ہندو انتہا پسندوں کی مسلمانوں سے نفرت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمان حکمرانوں و رہنماؤں کی بنائی کی نشانیوں کو اور ملکی تاریخ کو مسخ کرنے کے درپے رہتے ہیں۔

گزشتہ کچھ ہی عرصے پہلے بی جے پی کے وزرا اور رہنماؤں نے دنیا کے ساتویں عجوبے اور بھارت کے منفرد تفریحی مقام تاج محل کو اپنی سیاحت کے کتابچے سے نکال باہر کیا اور ایک وزیر نے تو تاج محل کو بھارتی تاریخ پر بدنماداغ قرار دے دیا۔ آر ایس ایس کے رہنمابال مکنڈ پانڈے نے تاج محل سےمتصل شاہ جہانی مسجد میں مسلمانوں کے لیے نماز کے دروازے بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ تاج محل کو  قومی ورثہ  ہونے کے  ناطے اسے مذہبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے اورتاج محل کے احاطے میں نماز کی ادائیگی پر مکمل پابندی عائد کی جائے اوراگر تاج محل میں نماز کی ادائیگی پر پابندی نہ لگائی گئی تو ہندوؤں کوبھی یہاں پوجا کرنے کی اجازت دی جائے۔اس کے بعد 18 ویں صدی میں ریاست میسور کے بادشاہ اور انگریزوں کے خلاف 4 جنگیں لڑنے والے ٹیپوسلطان بھی ہندو انتہا پسندی کے نشانے پر آگیا اور جب ریاست کرٹانک میں بی جے پی کی حزب مخالف جماعت کانگریس نے 2015 میں ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش کو ریاستی سطح پر منانے کا فیصلہ کیا تو ریاست کی جانب سے منعقدہ تقریب میں مدعو کئے گئے بی جے پی کے مرکزی رہنما اننت کمار ہیگڑے نے ناصرف تقریب میں شرکت سے معذرت کردی بلکہ زہر اگلتے ہوئے ٹیپوسلطان کو ظالم، قاتل قرار دے دیا۔

بی جے پی کے رہنما مسلمان رہنماؤں کی تمام نشانیاں مٹانے کی ہرطرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں اور اب بھارتی حکمران جماعت کے رکن پارلیمنٹ ستیش کمار نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ایک خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی  میں بانی پاکستان محمد علی جناح کا پورٹریٹ فوری طور پر اتارا جائے، ستیش کمار نے یونیورسٹی انتظامیہ سے  پوچھا ہے کہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد جناح کی تصویر کیوں نہیں ہٹائی گئی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی محمد علی جناح کے پورٹریٹ سے متعلق تفصیل جاری کرے۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ محمد علی جناح کو 1938 میں علی گڑھ یونیورسٹی کی اعزازی رکنیت دی گئی تھی جبکہ محمدعلی جناح سمیت کئی دیگر رہنماؤں کی تصاویر بھی یونیورسٹی میں لگائی گئی ہیں، لہذٰا رکن پارلیمنٹ کا مطالبہ سراسر غلط اور مسلم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

متعلقہ خبریں