یہ تو ہونا ہی تھا: آئی ایم ایف سے جاری مزاکرات کے دوران وزارت خزانہ کے اعلیٰ عہدیدار کہاں چلے گئے تھے؟ تہلکہ دعویٰ سامنے آگیا

2019 ,مئی 12



اسلام آباد (مانیتڑنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہاہے کہ بتایا جائے کہ وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام مذاکرات میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ آئی ایم ایف اپنی ہی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کرکے واپس چلا گیا۔ نجی ٹی وی نیوز چینل کے مطابق شیری رحمان نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے سے لگتاہے کہ ملک میں مہنگائی کی سونامی آنیوالی ہے، کہیں مہنگائی کا یہ سونامی حکومت کوہی نہ لے ڈوبے، ابھی بجلی مہنگی کرنے کا اعلان کیاہے ، حکومت یاد رکھے کے عام آدمی مہنگائی مزید برداشت نہیں کرسکتا ، پارلیمنٹ میں بتایا جائے کہ کن شرائط پر ملک اورادارے گروی رکھے جارہے ہیں، حکومت ترقیاتی منصوبے بند کرنے جارہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کہ وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام مذاکرات میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ آئی ایم ایف اپنی ہی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کرکے واپس چلاگیا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے سے روپے کی قیمت مزید کم ہوگی ، ہم اس عوام دشمن معاہدے کو نہیں مانتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں حزبِ اختلاف کی بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف مقرر کر دیا گیا ہے۔ جمعرات کو سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکشن میں شیری رحمان کی تقرری کا اعلان کیا گیا ہے۔ نوٹیفیکشن کے مطابق شیری رحمان کو ایوان میں حزب اختلاف کے 34 ارکان کی حمایت حاصل تھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے ایوان بالا میں کسی خاتون نے قائد حزب اختلاف کا عہدہ سنبھالا ہے۔ خیال رہے کہ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد اس وقت 20 ہے اور سینیٹ میں دوسری سب سے بڑی جماعت ہے۔ پیپلز پارٹی کے ہی سینیٹر سلیم مانڈوی والا حال ہی میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے متفقہ امیدوار کے طور پر ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے تھے اور اس انتخاب میں حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کے امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار کے لیے پیپلز پارٹی سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دینے کے باوجود سینیٹ میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف نے قائد حزب اختلاف کے لیے اعظم سواتی کو امیدوار نامزد کیا تھا تاہم وہ مقررہ ارکان کی حمایت نہیں حاصل کر سکے۔ اپنی نامزدگی کے بعد انھوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ان سے پہلے قائد حزبِ اختلاف اعتزاز احسن ‘ایک مضبوط رکن پارلیمان رہے ہیں اور ان کی جگہ لینے کے لیے مجھے بہت تندہی سے کام کرنا ہوگا’۔ شیری رحمان پاکستان کے روشن خیال سیاستدانوں کی فہرست میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ صحافت سے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے والی شیریں رحمان سنہ 1960 میں کراچی میں مقیم ایک معروف سندھی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک وکیل جبکہ والدہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی پہلی خاتون نائب صدر تھیں۔شیریں رحمان جن کا اصل نام شہر بانو ہے نے امریکہ کے سمتھ کالج اور پھر یونیورسٹی آف سسکیس سے آرٹ ہسٹری اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کی۔شیریں رحمان نے 20 برس تک مقامی اور بین الاقوامی اخباروں کے لیے لکھا اور ان کے ساتھ منسلک رہیں۔پاکستان کے نمایاں انگریزی جریدے دی ہیرلڈ کی مدیر اعلیٰ رہیں اور سنہ 1999 میں انھوں نے حالات حاضرہ کے پروگرام کی میزبانی بھی کی۔پھر سنہ 2002 میں وہ باضابطہ طور پر پاکستان کی پارلیمان میں خواتین کی مخصوص نشست کے ذریعے رکن بنیں۔ چھ برس بعد انھیں وزیر اطلاعات کا منصب ملا۔ یہ وہ وقت تھا جب ان سے عہدے کا حلف سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے لیا تھا۔وہ پیپلز پارٹی میں اہم عہدوں پر رہیں اور انھیں بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔پاکستانی پارلیمان میں شیریں رحمان نے انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے اہم قوانین کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کیا۔

متعلقہ خبریں