سرفراز کی چھٹی : کس نوجوان کھلاڑی کو قومی ٹیم کا کپتان بنا یا جانے والا ہے؟ نام سامنے آ گیا

2019 ,جولائی 24



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے مایہ ناز سابق فاسٹ باﺅلر شعیب اختر نے کہا ہے کہ سرفراز احمد کو ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 فارمیٹ میں قومی ٹیم کی کپتانی سے ہٹا کر صرف ایک وکٹ کیپر بلے باز کی حیثیت سے کھلانا چاہئے اور ان کی بیٹنگ کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔شعیب اختر نےاپنے یوٹیوب چینل پر جاری ویڈیو میں کہا کہ” سرفراز احمد کی وکٹ کیپنگ اور بلے بازی کی صلاحیت کا فائدہ اٹھانا چاہئے اور انہیں اب کپتان برقرار نہیں رکھنا چاہئے بلکہ ان کی جگہ حارث سہیل کو ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کا کپتان بنا دینا چاہئے البتہ بابراعظم کو ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی دی جا سکتی ہے، میں بابراعظم کیلئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ انہوں نے بہت رنز بنائے ہیں“۔ شعیب  اختر اس سے قبل بھی ورلڈ کپ کے دوران سرفراز احمد کی فٹنس کے حوالے سے ان پر کڑی تنقید کرچکے ہیں ۔ واضح رہے کہ ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی کے باعث قومی ٹیم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے بھی ٹیم کی حالت بدلنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”میں انگلینڈ گیا جہاں کرکٹ کھیلنا سیکھی اور جب ہم واپس آئے تو دیگر کھلاڑیوں کے کھیل کا معیار بھی بہتر ہوا،ورلڈکپ میں کارکردگی دیکھنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کرکٹ ٹیم کی حالت بہتر کروں گا“۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق بھارتی خبر رساں ادارے ”ممبئی مرر“ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ نوبال ٹیکنا لوجی ایک ایسی تکنیک ہے جس کے ذریعے باو¿لر کے پیرپرنگاہ رکھی جا سکے گی۔جیسے ہی باو¿لر کا پاو¿ں کریز پر پڑے گا تو اس پر تھرڈ امپائر کیمرے سے نظر رکھے گا اور اگر پاو¿ں کریزسے آگے ہوگا تو تھرڈ امپائرفوراً میدان میں کھڑے امپائرکواس کی اطلاع دے گا۔میچ کے دوران عام طور پر تھرڈ امپائرڈی آرایس کے دوران ہی باو¿لرکے پاو¿ں پر نگاہ ڈالتا ہے لیکن اب نو بال ٹیکنا لوجی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو گا۔بھارتی اخبار کے مطابق نوبال ٹیکنا لوجی فی الوقت بہت مہنگی ہے اور اسی وجہ سے آئی سی سی اس کے استعمال سے ہچکچا رہی ہے کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق فی میچ ہزاروں ڈالرز خرچ آئے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بورڈ فار کنٹرول آف کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) مطالبے پر آئی سی سی نوبال ٹیکنالوجی استعمال کرنے کیلئے تیار ہو گئی ہے اور سب سے پہلے یہ ٹیکنالوجی بھارت میں کھیلے جانے والے میچوں میں ہی استعمال کی جائے گی جس کے بعد اس کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں