سگریٹ نوشی کے وہ نقصانات، جو پہلے معلوم نہیں تھے

2018 ,جون 8



لاہور(مانیٹرنگ رپورٹ)ایک  ریسرچ کے مطابق سگریٹ نوشی کے ان نقصانات کا بھی پتہ چلا ہے، جو پہلے معلوم نہیں تھے۔ اس سے صرف پھیپھڑوں کا کینسر ہی نہیں ہوتا بلکہ اندھا پن، ذیابیطس، جگر اور بڑی آنت کے کینسر جسیی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔  اس نوعیت کی ایک رپورٹ 54 سال پہلے پیش کی گئی تھی۔ سن 1964ء میں تمباکو نوشی کے نقصانات پر پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سگریٹ نوشی سے پھیپھڑوں کا کینسر ہو سکتا ہے۔

امریکا میں بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے ادارے (سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر تھامس فریڈن کہتے ہیں کہ تمباکو نوشی امریکا میں قبل از موت کا سبب بننے والی سب سے بڑی بیماری ہے۔ ان کے مطابق نصف ملین امریکیوں کی موت کا سبب تمباکو نوشی بنتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تمباکو نوشی اس سے بھی بدتر ہے، جتنا ہم اسے پہلے خیال کرتے تھے۔ سیرچ کے مطابق کثرت سے تمباکو نوشی ذیابیطس کے علاوہ تیرہ اقسام کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو افراد سگریٹ نوشی نہیں کرتے لیکن اس کے دھوئیں میں سانس لیتے ہیں، ان میں دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

امریکا میں قائم مقام سرجن جنرل بورس لوشنیک کا کہنا تھا دورِ جدید میں سگریٹ ہماری سوچ سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ ڈاکٹر لوشنیک کہتے ہیں، ‘‘سگریٹ بنانے کا طریقہ اور اس کے اندر کے کیمیکل وقت کے ساتھ کافی حد تک بدل گئے ہیں۔ کچھ کیمکل ایسے بھی ہیں جو پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ تیز کرتے ہیں۔‘‘

امریکی حکومت نے سن 2020 تک تمباکو نوشی کرنے والوں کی شرح میں 12 فیصد تک کمی کا ہدف قائم کر رکھا ہے ، لیکن ماہرین کے مطابق اسے پورا کرنا مشکل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سگریٹ پینے والوں میں نظر کے کمزور ہونے یا اندھے پن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین میں سگریٹ نوشی کے اثرات سے نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی کٹے ہونٹ، حمل کے دوران پیچیدگیوں کا پیدا ہونا، جوڑوں کا درد اور جسم کے دفاعی صلاحیت میں کمی ہوجاتی ہے۔ سرچ کیمطابق معلوم ہوا ہے کہ اگر تمباکو نوشی کی شرح کم نہیں ہوئی تو امریکا میں ہر 13بچوں میں سے ایک بچہ آگے چل کر اس سے جڑی کسی بیماری کی وجہ سے جان گنوا دے گا۔

دیکھا جاسکتا ہے کہ نوجوانوں میں تمباکو کے استعمال کا طریقہ ء کار تبدیل ہو رہا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والے بہت سے لوگ زیادہ نكوٹین والے ای سگریٹ، مختلف ذائقوں والے سگار اور شیشہ پینے لگے ہیں۔

سرچ کے مطابق دنیا میں آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں سگریٹ نوشوں کی تعداد 73 کروڑ سے بڑھ کر تقریبا 98 کروڑ ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں