آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات سے پہلے شاہ محمود قریشی کو کپتان نے کیا ہدایت جاری کی ؟ شاندار حقیقت سامنے آ گئی

2019 ,مئی 12



ملتان ( مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مالی بحران کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، کوشش ہے کہ شرائط میں نرمی لائے جاسکے اور عوام پر بوجھ نہ پڑے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے ملک کا مالیاتی ڈھانچہ ہلا کر رکھ دیا، گزشتہ حکومت بہت بڑا معاشی بحران چھوڑ کر گئی، ہم نے حکومت سنبھالی تو مالیاتی خسارہ 19 ارب ڈالر اور 806 ارب روپے کا گردشی قرضہ تھا، مالیاتی خسارہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئی تھیں اور معیشت ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔انہوں نے بتایا حکومت نے پوری کوشش کی کہ آئی ایم ایف کے بغیر گزارہ ہوجائے لیکن بحران اتنا بڑا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، ہماری پوری کوشش ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط میں جتنی نرمی ممکن ہوسکے لائیں، پوری کوشش کریں گے کہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہورہی اور اگر سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو بیروزگاری میں اضافہ ہوگا۔ کچھ قوتیں پاکستان میں استحکام اور سی پیک کو آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے کچھ قوتیں ہیں، پاکستان کو غیرمستحکم کرنے والی قوتوں کے خلاف ہمہ وقت تیار ہیں۔تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے کچھ قوتیں ہیں جو سی پیک کو ترقی کرتے دیکھنا نہیں چاہتیں، سی پیک سے خطے میں تجارت بڑھے گی، نیا کوریڈور بنے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے پلواما کا الزام لگایا مگر ثابت نہ کرسکا، بین الاقوامی سطح پر بھارت کو شرمندگی ہوئی، بھارت کو ایف 16 گرانے، 300 لوگوں کو مارنے کے دعوے پر شرمندگی ہوئی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ سوچنا ہوگا آئی ایم ایف کے پاس جانے کی نوبت کیوں آئی، جب پی ٹی آئی حکومت آئی تو پتا چلا مالیاتی خسارہ کتنا تھا، برآمدات اور درآمدات میں 19 ارب روپے کا فرق تھا، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت جب آئی تو ملک میں سرمایہ کاری نہیں تھی، حالات بگڑ رہے تھے، حالات کو سنبھالنے کے لیے حکومت نے کوشش کی، مالیاتی خسارہ اتنا بڑھ گیا کہ خطرے کی گھنٹیاں بج رہی تھیں، کوشش ہے زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس نیٹ میں آئیں، لوگ ٹیکس دینا شروع کردیں گے تو عام آدمی پر بوجھ کم ہوجائے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور میں پیٹرول 24 ڈالر فی بیرل تھا، ہم نے جی ایس ٹی کو 56 سے کم کرکے 17 فیصد کیا، روپے کو عارضی مستحکم رکھنے کے لیے وقتی کام چلتا ہے دیرپا نہیں، مارکیٹ میں روپے کی قدر میں کمی آئی اور ڈالر میں اضافہ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف مذاکرات میں دیری کی وجہ ٹرم اینڈ کنڈیشن میں نرمی لانا ہے۔ واضح رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مالی بحران کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، کوشش ہے کہ شرائط میں نرمی لائے جاسکے اور عوام پر بوجھ نہ پڑے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے ملک کا مالیاتی ڈھانچہ ہلا کر رکھ دیا، گزشتہ حکومت بہت بڑا معاشی بحران چھوڑ کر گئی، ہم نے حکومت سنبھالی تو مالیاتی خسارہ 19 ارب ڈالر اور 806 ارب روپے کا گردشی قرضہ تھا۔

متعلقہ خبریں