کابینہ اجلاس میں فواد چوہدری اور اسدعمر میں تلخ کلامی ۔۔۔۔ وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں ایسا کیا ہوا تھا کہ دونوں وزراء آپس میں اُلجھ پڑے؟ اصل کہانی سامنے آگئی

2019 ,مارچ 21



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی و سینئر تجزیہ کار چوہدری غلام حسین نے کہا ہے کہ کابینہ اجلاس میں کسی مسئلے پر فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت کی کوئی کارکردگی نہیں ہو گی تو میڈیا بھی ناکام ہی ہو گا۔ چوہدری غلام حسین نے کہا کہ کابینہ اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان کی موجودگی فواد چوہدری نے کہا کہ کوئی بھی شخص خواہ وہ میں ہوں، یوسف بیگ مرزا، افتخار درانی، نعیم الحق ہو یا پھر کوئی اور، یہ سیلزمین ہیں جنہو ں نے حکومت کی پراڈکٹس کو بیچنا ہے اور جب ہمارے پاس بیچنے کو کچھ نہیں تو میڈیا بھی ناکام ہی رہے گا، لہٰذا اگر آپ کو لگتا ہے کہ میڈیا پالیسی ٹھیک نہیں یا مینجمنٹ نہیں ہو رہی تو یہ غلط بات ہے۔فواد چوہدری کی اس بات پر اجلاس میں شریک وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ اگر آپ یہ کہہ رہے ہیں تو پھر بلاول بھٹو زرداری کو جواب دینا میرا کام نہیں تھا کیونکہ میں وزیر خزانہ ہوں اور مجھے سیاسی بیان دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی جس پر فواد چوہدری نے کہا کہ میرا آپ کیساتھ کوئی تنازعہ نہیں ہے، بات صرف یہ ہے کہ جب میں مخالفین کیساتھ لڑائی لڑ رہا تھا اور مڑ کر پیچھے دیکھا تو میرے ساتھ بھی کوئی نہیں کھڑا ہوا تھا۔خیال رہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراء آپس میں الجھ گئے اسد عمر اور فواد چوہدری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وفاقی وزراء کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اسد عمر پیپلزپارٹی کی قیادت کو مناسب جواب نہ دینے پر فواد چوہدری سے ناراض ہیں اور فواد چوہدری نے ان کی جانب سے جواب دینے کے معاملے پرکہا کہ وہ ان کی ہدایت پر کام نہیں کر سکتے کابینہ کے اجلاس میں ایک وفاقی وزیر کی بیرون ملک روانگی پر بھی سخت تنقید کی گئی وزیراعظم نے سیکرٹریز اور وزراء کو بیرون ممالک دورے محدود کرنے کا حکم دیا دوسری جانب فواد چوہدری نے اپنی پریس کانفرنس میں تلخ کلامی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ میں باتیں تو ہوتی رہتی ہیں اسد عمر بھائیوں کی طرح ہیں ان سے تلخ کلامی نہیں ہوئی۔

متعلقہ خبریں