پاک فوج اور انڈین آرمی کے درمیان شدید جھڑپیں

2018 ,جون 15



ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک): بھارتی فوج نے دعویٰ کيا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی مبینہ بلااشتعال فائرنگ ميں اس کے چار فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد دونوں روايتی حريف ممالک کی افواج کے مابين اس وقت کنٹرول لائن پر فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔بھارتی حکام کے مطابق تازہ ترين جھڑپ منگل اور بدھ کی درميانی شب اس وقت شروع ہوئی، جب جموں کے علاقے ميں نگرانی پر مامور ايک بھارتی فوجی کو پاکستانی دستوں نے دور سے فائرنگ کر کے نشانہ بنايا۔ جب ديگر بھارتی فوجيوں نے اپنے اس ساتھی کو بچانا چاہا اور اس کے پاس پہنچے، تو پاکستانی فوجيوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ يوں ایک مسلح جھڑپ شروع ہو گئی۔ دو بھارتی اہلکاروں نے اپنی شناخت مخفی رکھتے ہوئے يہ اطلاع دی ہے۔ ان کے بقول تين بھارتی فوجی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ايک کچھ دير بعد دم توڑ گيا۔ جھڑپ ميں تين بھارتی فوجی زخمی بھی ہوئے۔ يہ امر اہم ہے کہ بھارتی فوج کا الزام ہے کہ فائرنگ پاکستانی فوجيوں کی جانب سے شروع کی گئی تھی اور وہ محض جوابی کارروائی کر رہے تھے۔فوری طور پر پاکستان نے اس تازہ بھارتی الزام اور جھڑپوں کی اطلاعات پر کوئی رد عمل ظاہر نہيں کيا۔جوہری ہتھياروں کی حامل جنوبی ايشيائی رياستوں پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات ايک عرصے سے خراب ہيں۔ کشمير کے کچھ حصے پر بھارتی کنٹرول ہے اور کچھ پر پاکستان کا۔ نئی دہلی حکومت کا الزام ہے کہ پاکستان کی جانب سے کشمير ميں سن 1980 کی دہائی کے اواخر سے جاری عليحدگی پسند تحريک کی عسکری حمايت جاری ہے۔ اسلام آباد حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔ دريں اثناء عليحدگی پسند تحريک اور اس کے انسداد کے ليے سن 1989 سے جاری بھارتی فوجی کارروائيوں ميں اب تک قريب ستر ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بيٹھے ہيں۔ ان میں بہت بڑی اکثريت کشمیری شہريوں کی تھی۔

متعلقہ خبریں