گھونگھٹ پر پابندی کے مطالبے پرہندو انتہا پسندوں کی جاوید اختر کو دھمکی

2019 ,مئی 4



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک): ناموربالی ووڈ شاعر اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اخترکو برقع پرپابندی کے مطالبے کے جواب میں گھونگھٹ پر پابندی کا مطالبہ کرنا مہنگا پڑگیا۔ دوروزقبل جاوید اخترنے بھوپال میں ایک تقریب کے دوران ہندوانتہا پسند جماعت شیوسینا اورحکمران جماعت بی جے پی کی جانب سے بھارت میں مسلم خواتین کے برقع پہننے اورنقاب کرنے پر پابندی کے مطالبے پر کرارا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگربرقع پر پابندی کا قانون پاس ہوا تو ریاست راجستھان کی ہندو خواتین کے گھونگھٹ کرنے پربھی پابندی عائد ہونی چاہیئے، قانون برقع اورگھونگھٹ دونوں کے لیے ایک ہونا چاہئے تاہم جاوید اختر کو برقع کے حق میں بیان دینا منگا پڑگیا۔

جاوید اخترکے برقع کے حوالے سے دئیے گئے بیان کے بعد ہندو انتہا پسند جماعت کرنی سینا نے جاوید اختر کو دھمکی دی ہے کہ وہ اپنے بیان پر تین دن کے اندر معافی مانگیں ورنہ وہ انہیں ان کے گھر میں گھس کر ماردیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کرنی سینا نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مہاراشٹرا ونگ کرنی سینا کے سربراہ  جیون سنگھ سولنکی نے جاوید اختر کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جاوید اختر اپنی حد میں رہو، ریاست راجستھان کی ثقافت پر انگلی نہیں اٹھاؤ، میں جاوید اخترکو کہنا چاہتا ہوں کہ 3 دن کے اندر اپنے بیان پر معافی مانگو ورنہ کرنی سینا کا غصہ جھیلنے کے لیےتیار رہو، کرنی سینا اس طرح کے لوگوں کو جواب دینا اچھی طرح جانتی ہے۔

جیون سنگھ نے سنجے لیلا بھنسالی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا بھنسالی صاحب سے پوچھ لینا کرنی سینا کس طرح جواب د یتی ہے، اگرراجستھان کی ثقافت پر کسی نے انگلی اٹھائی تو کرنی سینا اس کی آنکھ باہرنکالنے کی ہمت رکھتی ہے، ہم 3 دن کا وقت دے رہے ہیں معافی مانگ لو ورنہ گھر میں گھس کر ماریں گے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل ہندو انتہا پسند جماعت شیو سینا نے برقع اور نقاب پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سری لنکا نے دہشت گردانہ حملوں کے بعد نقاب پر ملک گیر پابندی عائد کردی ہے لہٰذا ہمیں بھی سری لنکا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھارت میں نقاب اوربرقع پر مکمل پابندی عائد کردینی چاہئے۔

متعلقہ خبریں