انٹرنیٹ ایجاد کرنے والے شخص نے اب ایک نیا انٹرنیٹ لانے کا اعلان کردیا، یہ کیا ہے؟

2018 ,اکتوبر 2



بوسٹن (مانیٹرنگ رپورٹ) اگر آپ اپنی زندگی کسی پتھر کے نیچے بسر نہیں کررہے تو ٹم برنرز لی کو ضرور جانتے ہوں گے۔ انہیں انٹرنیٹ کا باپ کہا جاتا ہے کیونکہ یہی وہ صاحب ہیں جنہوں نے دنیا کو انٹرنیٹ اور ”ورلڈ وائڈ ویب“ کا تحفہ دیا۔ ٹم نے انٹرنیٹ ایجاد تو کر دیا لیکن بعد اس کی جو شکل بن گئی وہ اُن کی توقعات کے بالکل برعکس ثابت ہوئی۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم کو کمیونیکشن کی ایک آزاد دنیا کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے مگر اس پر بڑی بڑی کمپنیوں کا قبضہ ہوچکا ہے جنہوں نے اپنی مرضی کے اصول ضابطے بنا کر صارفین پر پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ وہ اس بات کو بالکل پسند نہیں کرتے کہ فیس بک، گوگل اور ایمزون جیسی کمپنیوں نے انٹرنیٹ کو جکڑ رکھا ہے اور عام صارفین کا ڈیٹا ان کمپنیوں کے قبضے میں ہے۔ ٹم نے اس صورتحال کو بدلنے کے لئے خاموشی سے ایک نئے انٹرنیٹ کی تخلیق پر کام شروع کر رکھا تھا اور آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ عنقریب یہ نیا انٹرنیٹ منظر عام پر آنے والا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق ٹم کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 9ماہ سے انٹرنیٹ کی نئی شکل INRUPTکے آخری مرحلے پر کام کر رہے تھے۔ اس پراجیکٹ میں ان کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے MITیونیورسٹی، جہاں وہ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں، سے عارضی طور پر چھٹی لے رکھی ہے تاکہ اپنی تمام توجہ نئے انٹرنیٹ پر مرکوز رکھ سکیں۔ انہیں توقع ہے کہ اسی ہفتے وہ نیا انٹرنیٹ لانچ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

ٹم نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس پراجیکٹ کے آخری مرحلے پر کام گزشتہ 9 ماہ کے دوران کیا گیا ہے تاہم وہ ”سولڈ (Solid)“ پلیٹ فارم پرکئی سال سے کام کررہے تھے تاکہ نئی طرز کا انٹرنیٹ متعارف کرواسکیں۔ ”سولڈ“ انٹرنیٹ کے ابتدائی دنوں کی طرح ایک آزاد پلیٹ فارم ہے جس تک رسائی کے لئےINRUPTکو استعمال کیا جائے گا۔

نئے انٹرنیٹ میں ہر صارف کی اپنی ”سولڈ آئی ڈی“ ہوگی اور اس کا ڈیٹا اس کے ذاتی ”سولڈ پوڈ“ پر محفوظ ہوگا۔ اگر فیس بک یا ایمزون جیس کوئی کمپنی صارف کے ڈیٹا تک رسائی چاہے گی تو صارف اپنی مرضی سے اس کی اجازت دے گا اور کس حد تک اس کے ڈیٹا تک رسائی ہونی چاہیے اس بات کو بھی خود کنٹرول کرسکے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس انٹرنیٹ میں گوگل، ایمزون اور فیس بک جیسی کمپنیوں کے پاس صارف کا ڈیٹا نہیں ہوگا بلکہ یہ ڈیٹا صارف کے اپنے کنٹرول میں ہوگا اورگوگل، فیس بک بھی صارف کی اجازت سے اس ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔

متعلقہ خبریں