یہ مرد نیم برہنہ حالت میں کس چیز پر احتجاج کررہے ہیں؟ حقیقت جان کر مرد تو کیا خواتین بھی حیران رہ جائیں گی

2018 ,مارچ 8



نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میںجنسی جرائم کا جن کسی طور قابو میں آنے کو تیار نہیں۔ عام شہری حکومت اور پولیس سے فریاد کرتے تھک گئے ہیں لیکن خواتین کے تحفظ کے لئے کچھ نہیں ہو سکا۔ خواتین ہی کیا اب تو کمسن لڑکیوں کی عزت بھی محفوظ نہیں اور حتیٰ کہ آٹھ ماہ کے ایک بچے کو بھی حیوانیت کا نشانہ بنا ڈالا گیا۔ اس خوفناک صورتحال کے خلاف پہلے بھی کئی احتجاج کئے گئے ہیں لیکن درالحکومت دلی میں سینکڑوں نوجوانوں نے احتجاج کا بالکل منفرد انداز اختیار کر لیا۔ یہ سب کے سب نیم برہنہ تھے، کسی نے صرف پتلون اور کسی نے صرف نیکر پہن رکھی تھی۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس احتجاج کا آغاز دلی کمیشن برائے خواتین سے متعلقہ نوجوانوں نے کیا لیکن بعد ازاں سینکڑوں عام شہری بھی اس میں شامل ہو گئے۔ ان نوجوانوں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ”لباس ریپ کی وجہ نہیں“، ”لڑکیوں کا لباس مختصر نہیں جنسی درندوں کی سوچ مختصر ہے“، ”چند ماہ کے بچے کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا، اس نے کون سا لباس پہن رکھا تھا“ جیسے نعرے درج تھے۔
احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ جنسی جرائم کا نشانہ بننے والی خواتین ہی کو الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشرے میں یہ نظریہ عام پایا جاتا ہے کہ خواتین کا ’غیر مناسب‘ لباس ان کے خلاف جنسی جرائم کا سبب بنتا ہے۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ نیم برہنہ ہو کر احتجاج کر کے وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ لباس ریپ کی وجہ نہیں بلکہ مجرمانہ سوچ اس کی وجہ ہے۔ متعدد نوجوانوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر لباس ہی ریپ کی وجہ ہے تو برقعہ پوش خواتین اور ننھے بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے واقعات کیوں پیش آ رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کے اقدام کو قابل تحسین قرار دیا۔

متعلقہ خبریں