حقیقی چیمپئن کون ہوتا ہے ؟ وزیر اعظم عمران خان کا ایچی سن کالج کا دورہ ، طلباء کو شاندار مشورہ دے ڈالا

2019 ,مئی 4



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ حقیقی چیمپین وہ ہوتا ہے جو برے وقت کا مقابلہ کرے کیونکہ جب بھی برا وقت ہوتا ہے تو اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ،انسان اپنے آپ کو تزکیہ نفس سے بہتر بنا سکتا ہے ۔لاہور میں ایچی سن کالج میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی، تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ میری زندگی کا اصول ہے، پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔انہوں نے کہا کہ آدھے پاکستانی دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے، قائد اعظم کو سیاست کی ضرورت نہیں تھی، انہوں نے آزادی کے لیے 40 سال جدوجہد کی۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پیسے کمانے سے نہیں بلکہ بڑی ذمہ داری نبھانے سے بڑا آدمی بنتے ہیں، بڑے لوگ وہ بنیں گے جو اپنی قوم کے لیے آگے جا کر کام کریں گے کیوں کہ دنیا ان کو یاد رکھتی ہے جو انسانوں کے لیے کام کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم کو اس لیے یاد رکھا جاتا ہے کہ انہوں نے آزادی کے لیے کام کیا، چیمپیئن وہ ہوتاہے جو برے وقت کو ہینڈل کرتاہے، دنیا میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب اعجاز حسین شاہ کو اہم ٹاسک سونپ دیا۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ تمام کیسز میں بلاتفریق ایکشن لیں،آپ آزادانہ کام کریں ، کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ڈی جی اینٹی کرپشن اعجاز حسین شاہ نے ملاقات کی ، ڈی جی اینٹی کرپشن نے وزیراعظم کو سینئر افسران کیخلاف کیسز سے متعلق بریفنگ دی۔وزیراعظم عمران خان نے اینٹی کرپشن کو سینئر افسران کیخلاف کاروائی کی اجازت دے دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن کو 800کیسز کی تحقیقات کی منظوری مل گئی۔وزیراعظم نے تمام کیسز میں بلاتفریق ایکشن لینے کی ہدایت بھی کردی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آپ آزادانہ کام کریں ، کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے۔اس موقع پر اعجاز حسین شاہ نے یقین دلایا کہ پنجاب میں کرپشن کے خاتمے کیلئے مکمل اقدامات کریں گے۔جس بھی سرکاری افسر کے خلاف کیس ہوگا اس کو پہلے صفائی کا پورا موقع دیا جائے گا۔ مزید برآں وزیراعظم عمران خان نے رینالہ خورد میں نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو پورا کریڈٹ دیتا ہوں کہ ان کی ٹیم نے بھرپور طریقہ سے پانچ سال میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کی ہماری ہائوسنگ پالیسی میں بھرپور حصہ ڈالا اس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر ہائوسنگ میاں محمودالرشید نے کہا کہ یہ کام مشکل ہے تو اگر یہ مشکل نہ ہوتا تو گزشتہ دس سال میں حکومت کرنے والے یہ کام کر چکے ہوتے، انشاء اللہ تمام مشکل کام ہماری حکومت کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس معاشرہ کے اندر جب تک احساس نہیں ہوتا وہ معاشرہ کبھی دنیا کی تاریخ میں آگے نہیں بڑھا، یورپ میں احساس نظر آئے گا وہ کمزور طبقہ کیلئے فکر مند رہتے ہیں، گھر سے تعلیم اور انصاف دلوانے کی ذمہ داری وہ ریاستیں لیتی ہیں وہاں پر غریب آدمی کو حکومت قانون معاونت دیتی ہے، غریبوں کیلئے روٹی کا بندوبست کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپ میں اس وقت جو نظام ہے وہ سرکار مدینہ نے ریاست مدینہ میں متعارف کرایا اور فلاحی ریاست مدینہ کی تشکیل کی بنیاد پر ایک ہزار سال تک مسلم دنیا کی امامت کا ذریعہ بنی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ نے روم اور فارس کی سلطنتوں کی موجودگی میں غریب ریاست ہونے کے باوجود ثابت کیا کہ کمزور طبقہ کی مدد اور ذمہ داری ادا کرنے پر اللہ کی طرف سے مدد ہوتی ہے، کمزور طبقہ کو اوپر اٹھانے پر اللہ نے ریاست مدینہ کو اوپر اٹھا لیا۔انہوں نے کہا کہ سویڈن، ناروے ڈنمارک میں نظام دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ مدینہ کی فلاحی ریاست کے نظام سے انہوں نے یہ نظام لیا ہے جہاں جانوروں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے، یہ انسانیت کا نظام ہمارا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ اس معاشرہ کو عزت دیتا ہے جو اس کے حبیب ﷺکے راستے پر چلتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کیا جانے کا ایک بڑا خواب تھا، ہم اب یہ کوشش کریں گے معاشی صورتحال خراب ہونے کے باوجود ہم یہ 50 لاکھ گھر بنائیں گے، اس حوالہ سے ہم نے پہلے مرحلہ میں قوانین بدلے ہیں، بینکوں کے قوانین میں تبدیلی لائی ہے، سارے پاکستان میں اب یہ ہائوسنگ منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ہائوسنگ منصوبہ نجی شعبہ کے تعاون سے پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے گا اس سے نوجوانوں کو روزگار کے بڑے مواقع میسر آئیں گے، وہ چھوٹی کمپنیاں بنا کر ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کردار ادا کریں گے، اس کے علاوہ ہائوسنگ کے منصوبوں سے 40 صنعتوں کو فروغ ملے گا، شرح نمو میں اضافہ ہو گا، خوشحالی آئے گی۔

متعلقہ خبریں