اپنے خاندان کو چھوڑنے والی سعودی لڑکی رہف القنون کینیڈا پہنچ گئی ۔۔ اب سے ادھرکیا کیا کرے گی ؟ نا قابل یقین خبر آگئی

2019 ,جنوری 13



ٹورنٹو(مانیٹرنگ ڈیسک) اپنے خاندان کو چھوڑنے اور بنکاک ایئرپورٹ پر پھنس جانے والی سعودی شہری رہف القنون کو پناہ ملنے کے بعد اور وہ کینیڈا پہنچ گئی ہیں ،، 18 سالہ رہف محمد القنون براستہ بنکاک آسٹریلیا جانا چاہتی تھی ‌لیکن انھیں پہلے کویت واپس جانے کے لیے کہا گیا جہاں ان کا خاندان ان کا انتظار کر رہا تھا۔ انھوں نے واپس جانے سے انکار کر دیا اور ایئرپورٹ کے ہوٹل کے ایک کمرے میں خود کو بند کر لیا، جس سے انھیں بین الاقوامی توجہ بھی حاصل ہوئی،، انھوں نے نجی ٹی وی کو بتایا تھا کہ وہ اسلام ترک کر چکی ہیں، اور انھیں ڈر ہے کہ اگر انھیں زبردستی سعودی عرب واپس بھیج دیا گیا تو ان کا خاندان انھیں قتل کر دے گا۔ سعودی عرب میں ارتدادِ اسلام کی سزا موت ہے،، کینیڈا کی وزیر برائے خارجہ امور کرسٹیا فریلینڈ نے سعودی خاتون ’ایک نئی بہادر کینیڈین‘ کے طور پر متعارف کروایا تاہم ان کا کہنا تھا کہ رہف القنون ایک لمبے سفر اور آزمائش کے بعد تھکن سے چُور ہیں اور سنیچر کو کوئی بیان نہیں دیں گی،، وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’وہ ایک بہت بہادر خاتون ہیں جنھوں نے بہت کچھ سہہ لیا ہے۔۔۔ اور وہ اب اپنے نئے گھر میں جا رہی ہیں،، کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اس سے قبل صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کے ملک نے اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کی جانب سے پناہ دینے کی درخواست کو قبول کر لیا ہے،،رہف القنون سنیچر کو کینیڈا کے پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول سے کوریئن ایئر کے پرواز سے پہنچیں۔

متعلقہ خبریں