خاموش صدر کے نام سے مشہور ممنون حسین نے خاموشی توڑ دی ۔۔۔ اپنے دور حکومت میں چپ رہنے کی وجہ بتا دی

2019 ,اپریل 12



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر ممنون حسین ملک کے سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز رہے لیکن انہیں زیادہ مقبولیت اپنے خاموش انداز کی وجہ سے ملی۔ ملکی صدارت کے دوران خاموش رہنے والے ممنون حسین حکومت ختم ہونے کے بعد بھی منظر عام سے غائب ہیں۔ سابق صدر نے نجی ٹی وی کے پروگرام نیا دن میں دلچسپ ٹیلیفونک بات چیت کی گئی جس میں وہ کھل کر بولے۔ممنون حسین سے پوچھا گیا کہ ایسے میں شریف خاندان پیشیاں بھگت رہا ہےاور زرداری صاحب بھی لپیٹ میں ہیں تو مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر اہم اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقاتیں کیا اہمیت رکھتی ہیں؟ جواب میں انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بھرپور حمایت کر ڈالی۔ بولے کرپشن میاں صاحب کے قریب سے بھی نہیں گزری۔ میں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ جو جتنا بڑا کرپٹ ہوتا ہے اس کا چہرہ اتنا ہی منحوس ہوتاہے، آپ میاں صاحب کا چہرہ دیکھ لیں کتنا شاداب اور چمکتا ہوا ہے، کرپٹ لوگوں کا چہرہ ایسا نہیں ہوتا جو میاں صاحب کا ہے۔ ان پر لگنے والے کرپشن کے الزامات بےبنیاد ہیں۔جب آپ صدر تھے تو لوگ مذاق اڑاتے تھے کہ آپ تو کوئی بات ہی نہیں کرتے؟ اس سوال کے جواب میں سابق صدرنے واضح کیا کہ صدر کا کام بولنا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رائےقائم کرنا لوگوں کو حق ہے ، صدر بہت زیادہ بولتا نہیں ہے۔ بادشاہ اور ملکہ بھی سیاست میں بہت سرگرم ہو کر حصہ نہیں لیتے اور یہ طریقہ کہیں بھی رائج نہیں، پڑوسی ملک کو ہی دیکھ لیں ،صدر کی ذمہ داریاں محدود ہوتی ہیں اور وہ ہر چیز پر اظہار خیال نہیں کرتا۔اپنی خاموشی سے متعلق ٹرولنگ پرممنون حسین نے مزید کہا کہ میں نے خصوصا یونیورسٹی اوردیگر طلبہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھا، کانووکیشن اور تعلیم سے متعلق تمام تقریبات میں جاتا رہا،

متعلقہ خبریں