’’ عمران خان تبدیلی لانے میں دیر نہیں لگاتے ۔۔۔ ‘‘ شاہ محمود قریشی تحریک انصاف سے فارغ، ملکی سیاست میں ہلچل

2019 ,مئی 4



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی اورجہانگیرترین اپنی لڑائی کی وجہ سے عمران خان کی نظر میں نیچے گئے ہیں ، جہانگیر ترین اب بھی عمران خان کی ضرورت ہیں لیکن ہر فیصلے میں اب وہ شریک نہیں ہوتے ۔ جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ عمران خان کے اردگرد غیر منتخب لوگوں کی گرفت مضبوط ہے ، یہ بھی سناہے کہ پرنسپل سیکرٹری ہی کابینہ کے ارکان کا وزیر اعظم سے ملنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین اپنی لڑائی کی وجہ سے عمران خان کی نظر میں نیچے گئے ہیں ، جہانگیر ترین اب بھی عمران خان کی ضرورت ہیں لیکن ہر فیصلے میں اب وہ شریک نہیں ہوتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کاماضی یہ بتاتاہے کہ وہ جس سے مطمئن نہ ہوں ، اس کو ہٹانے میں دیر نہیں لگاتے ، پنجاب میں یہ مذاق بناہواہے کہ وزیر اعظم چیک کرتے ہیں کہ تین ماہ کس سیکرٹری کوپورے ہوگئے ہیں لیکن ایسے مسئلہ یہ ہوتاہے کہ اس طرح ٹیم نہیں بن پاتی اورنہ ان میں اعتماد آتاہے ۔ دوسری جانب وفاقی کابینہ میں رد و بدل کے بعد اب پنجاب کابینہ کے اراکین کو بھی سختی سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنی گورننس اور کارکردگی کو بہتر کریں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت کو فالو کرتے ہوئے پنجاب کابینہ کو پرفارمنس بہتر کرنے اور گورنس کے معاملات درست کرنے کے لئے متحرک رول ادا کرنے کی سخت ہدایت اورپرفارمنس کی بنیاد پر وزارتوں سے ہٹائے جانے اور محکمے تبدیل کرنے کی وارننگ بھی دے دی گئی ہے۔ذرائع نے دسویں کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کابینہ اراکین کو وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کو سختی سے فالو کرنے کا کہا ۔ اور مسلسل ناکامی کی وجہ بننے والے وزرا کو عہدوں سے ہٹانے یا محکمے تبدیل کرنے کی وارننگ دی۔قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ذرائع پنجاب کابینہ نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ وزیر اعظم آج اعلٰی سطحی اجلاس میں بُری پرفارمنس کی بنیاد پر چند وزرا کے محکمے تبدیل کرنے کی ہدایت بھی جاری کر سکتے ہیں ۔کچھ وزرا سے وزارتیں بھی واپس لی جا سکتی ہیں، وزیر اعظم بُری اور ناقص کارکردگی کے حوالے سے مزید کوئی عذر سننے کے لئے تیار نہیں اور وہ صرف نتائج چاہتے ہیں، جو پرفارم نہیں کرئے گا وہ گھر جائے گا اور کسی دوسرے پارٹی ممبر کو متعلقہ محکمے کے لئے ٹائم لائن مقرر کر کے ٹاسک سونپا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت، تعلیم، لوکل گورنمنٹ سسٹم، زراعت ، لااینڈ آرڈر ،خوراک اور ٹورازم کے معاملات پر وزیر اعظم کا خصوصی فوکس ہے ۔انہوں نے بتایا کہ نیا پاکستان ہاوسنگ پروگرام پر بھی وزیر اعظم کا خصوصی فوکس ہے ۔ اسی وجہ سے دسویں کابینہ اجلاس میں ترجیحی بنیادوں پر پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے لیے 5 ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔ زراعت کے شعبے سے جڑے کھال پنچایت ایکٹ 2019ء کی ترجیحی بنیادوں پر منظوری بھی اسی پیرائے میں کی گئی ۔اس کے علاوہ صحت کے شعبے میں انسداد پولیو کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات اُٹھانے کا فیصلہ بھی اسی اجلاس میں کیا گیا۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان بارہا کہہ چکے ہیں کہ جو کارکردگی نہیں دکھائے گا اسے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا یہی وجہ ہے کہ وزرا کو کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں