مہربانی کر کے میری اس بات کو صیغہ راز میں رکھا جائے۔۔۔‘‘مریم نواز نے نیب کو خط میں کیا لکھاتھا؟ بڑا تہلکہ

2019 ,اگست 8



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کو خط لکھ کر 8اگست کو پیش نہ ہونے کا بتایاگیا تھا۔خط کے متن میں کہا گیا کہ 31تاریخ کو نیب حکام کے سامنے پیش ہو کر تمام تفصیلات جمع کروا چکی ہوں۔ 2016 کے بعد سے چوہدری شوگر ملز کی شیئر ہولڈر نہیں ہوں۔تمام ریکارڈ اکٹھا کرنے کیلئے وقت درکار ہے جس وجہ سے پیش نہیں ہو سکتی۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا مشہود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھاکہ مریم نواز نے والد سےملاقات کے بعد نیب میں پیشی کے لئے جانا تھا۔علاوہ ازیں قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے چوہدری شوگر ملز مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے بھتیجے یوسف عباس شریف کو گرفتار کرلیا، دونوں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کیلئے کوٹ لکھپت جیل پہنچے تھے جہاں نیب کی ٹیم نے انہیں وارنٹ دکھا کر باضابطہ گرفتار کیا، مریم نواز کی گرفتاری کی اطلاع ملنے پر نواز شریف اور شریف خاندان سے اظہار یکجہتی کیلئے جمع ہونے والے کارکنوں نے احتجاج شروع کر دیا اور رکاوٹیں توڑتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے جبکہ رہنما او رکارکن نیب لاہور کے ہیڈ کوارٹرکے باہر بھی پہنچ گئے اور شدید نعرے بازی کی۔ تفصیلات کے مطابق نیب لاہور کی جانب سے مریم نواز، یوسف عباس اور عبد العزیز عباس کو 8اگست کو طلبی کے نوٹسزجاری کئے گئے تھے۔ مریم نواز اپنے والد سے ملاقات کیلئے مختص دن کی مناسبت سے کوٹ لکھپت جیل پہنچیں۔ نیب کی ٹیم کی جانب سے کارکنوں کی مزاحمت سے بچنے کیلئے مِریم نواز کو جیل کے اندرگرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اور نیب کی گاڑیاں خصوصی اجازت کے بعد نواز شریف سے ملاقات والے کمرے تک پہنچیں۔ والد محمد نواز شریف سے ملاقات کے دوران جیل حکام کی جانب سے مریم نواز کو نیب ٹیم کی آمد کے حوالے سے بتایا گیا۔ اس موقع پر شہباز شریف،نواز شریف کی نواسی ماہ نور صفدر،نواسہ جنید صفدر اور بھتیجا یوسف عباس بھی موجود تھے۔نیب کی ٹیم میں شامل افسر اور ان کے ساتھ موجود لیڈی اہلکار مریم نواز کے پاس پہنچے اور گرفتاری دینے کا کہا۔ مریم نواز نے وارنٹ گرفتاری مانگے تو انہیں چیئرمین نیب کی جانب سے جاری کئے گئے وارنٹ دکھا دیئے گئے جس پر مریم نواز نے کہا کہ وہ نیب سے تعاون کر رہی ہیں تو ایسا کیوں کیا جا رہاہے۔تاہم نیب کی ٹیم نے انہیں گرفتار کر لیا اور اس کے ساتھ ہی یوسف عباس کوبھی وارنٹ دکھا کر گرفتار کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم نواز کا حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ حکومت ان کے خاندان کیخلاف انتقامی کارروائیوں میں کس حد تک گر گئی ہے کہ اب ان کی خواتین کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔ مریم نواز کی گرفتاری کے بعد ان کے ساتھ جانے والی ان کی ذاتی سکیورٹی گارڈز کی ٹیم کو جیل حکام کی جانب سے واپس بھجوا دیا گیا۔مریم نواز کی گرفتاری کی اطلاع ملنے پر شریف خاندان سے اظہار یکجہتی کیلئے آنے والے کارکنوں نے احتجاج شروع کر دیا او رحکومت او رنیب کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر کارکنوں نے جیل کی طرف جانے والے راستوں پر لگائی رکاوٹیں زبردستی پیچھے ہٹاکر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے جس کی وجہ سے ان کی جیل او رپولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی اور

 

دھکم پیل بھی ہوئی۔کارکنوں کی جانب سے اس موقع پر احتجاجاًدھرنا بھی دیا گیا جبکہ کچھ کارکنوں نے احتجاجاً اپنے کپڑے بھی پھاڑ لئے۔مِریم نواز کی گرفتاری کی کال پر لیگی رہنما او رکارکنان نیب ہیڈ کوارٹرکے باہر بھی پہنچ گئے اور حکومت او رنیب کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی۔ رانا مشہود، خواجہ عمران نذیر اور عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مریم نواز عوام کی موثر آواز بن چکی ہیں اس لئے انہیں دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نا معلوں کی حکومت کب ختم ہو گی اورعوام کی ووٹ کے طاقت سے آنے والے کب فیصلے کریں گے۔ہم حق او رسچ کی آواز اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 15اگست کو مریم نواز نے مظفر آباد جانے کی کال دی، انہیں گرفتارکر کے کیا پیغام دیا گیا ہے۔ مریم نواز نے15اگست کو دنیا کو بھارت کا مکروہ چہرہ دکھانا تھا لیکن اب حکومت کا مکروہ چہرہ سامنے آ چکا ہے۔ لیگی رہنماؤں نے کہا کہ لیڈر وہ ہوتاہے جو قوم کو جوڑتا ہے لیکن عمران نیازی تم کینہ پرور شخص ہو او رتم نے مودی کی مدد کی ہے۔ اگر گرفتاری کر کے تحفہ دینا ہی تو کشمیر کے معاملے کے بعد گرفتار کر لیتے۔ آج جب پوری قوم کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے تم قوم کو تقسیم کر رہے ہو۔ مریم نواز کی گرفتاری کے خلاف مسلم لیگ (ن) لائرز ونگ کے وکلاء نے بھی ہائیکورٹ بار کے احاطے میں احتجاج کیا اور حکومت اور نیب کے خلاف شدید نعر ے بازی کی۔مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مریم نواز کی گرفتاری کے خلاف مذمتی قرارداد بھی پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کر ادی گئیں۔ بعد ازاں نیب کی ٹیم مریم نواز اور یوسف عباس شریف کو انتہائی سخت سکیورٹی میں لے کر نیب ہیڈ کوارٹر ٹھوکر نیاز بیگ پہنچ گئی۔ کارکنوں کے احتجاج کے پیش نظر نیب ہیڈ کوارٹر کی سکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق دونوں کو ریمانڈ کے لئے آج (جمعہ) کے روز احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 31 جولائی کو چوہدری شوگرملزکیس میں طلبی پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نیب دفتر میں پیش ہوئی تھیں جہاں نیب کی مشترکہ ٹیم نے ان سے 45 منٹ تک تحقیقات کیں اور سوالنامہ بھی دیا تھا، سوالنامہ میں چوہدری شوگرملز میں سرمایہ کاری، قرض اورشیئرز کے حوالے سے متعلق جواب مانگے گئے تھے۔نیب نے مریم نوازکو8 اگست کودوبارہ طلب کیا تھا اور ریکارڈبھی ساتھ لانے کی ہدایت کی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ہے کہ مریم نواز کی گرفتاری کے وقت جیل میں موجود تھا،مریم نواز کو ان کے بیمار والد اور چھوٹی بیٹی کے سامنے گرفتار کیا گیا۔ نواز شریف سے ملاقات کے بعد ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ اس سے بدتر صورتحال نہیں ہو سکتی تھی۔ڈاکٹر عدنان نے ”مریم نواز اریسٹڈ“کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹوئٹ کی۔

متعلقہ خبریں