وزیر اعظم کے ناقابل یقین بیان نے بین الاقوامی سطح پر کھلبلی مچا دی

2019 ,اگست 8



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھے تاکہ وہ دیکھے کہ مظلوم کشمیریوں پر اس دوران کیا بیتی۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے تازہ ٹویٹ میں دنیا کو اس امر کی طرف متوجہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو کرفیو نافذ ہے، وہ کشمیریوں پر کیا اثرات مرتب کر رہا ہوگا۔انھوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ دنیا منتظر ہے مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھے، تاکہ وہ دیکھے کہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کیا ہوا۔عمران خان نے لکھا کہ کیا مودی سرکار سمجھتی ہے کہ وہ کشمیریوں کے خلاف زیادہ فوجی طاقت استعمال کر کے تحریک آزادی کو کچل دے گی؟انھوں نے بی جے پی حکومت کو خبردار کیا کہ بھارتی اقدام سے کشمیریوں کی تحریک آزادی مزید تیز ہوگی۔وزیر اعظم نے کہا کہ جو یقینی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں اہل کشمیر کی نسل کشی کا بد ترین مظاہرہ دیکھنے کو ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اہم سوال ہے کہ آیا ایک مرتبہ پھر ہمیں بی جے پی کی حکومت کی شکل میں فاشزم کی خوشامد دیکھنے کو ملے گی یا بین الاقوامی برادری اخلاقی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا راستہ روکے گی؟وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کی سازش کر رہا ہے، انٹرنیشنل کمیونٹی مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی دیکھے گی، لیکن کیا وہ اسے ہونے سے بچانے کے لیے اخلاقی جرأت کا مظاہرہ بھی کرے گی یا روایتی خوشامد کا مظاہرہ کرے گی۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم نے کشمیر سے متعلق بھارت کے غاضبانہ اقدام پر کہا کہ بی جے پی نازی سوچ رکھنے والی جماعت ہے، نریندر مودی بھارت کے ہٹلر بننا چاہتے ہیں.وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کا قتل عام کرنا چاہتا ہے، کشمیر کا معاملہ سیکیورٹی کونسل میں اٹھانے کے لئے قانونی جائزہ لے رہے ہیں.بھارت نے ماضی میں پلوامہ واقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، ہمارے لئے افغانستان میں کردارادا کرنا مشکل بنایا جارہا ہے.وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت پلوامہ جیسے واقعات کرائے گا، پاک بھارت سرحدوں پر صورت حال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، عالمی رائے عامہ سفارتی طریقے سے بدلنے کی کوشش کریں گے.انھوں نے کہا کہ صدرٹرمپ کشمیرکےمعاملےمیں ثالثی کے لئے سنجیدہ ہیں، افغانستان میں پائیدارامن کے لئے مثبت کردار جاری رکھیں گے،پاکستان کی سلامتی کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں.یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے اور دو طرفہ تجارت معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں