نا اہلی تو کچھ بھی نہیں۔۔۔ لاہور ہائیکورٹ سے جہانگیر ترین کیلئے مزید مشکلات کھڑی کر دینے والی خبر آگئی

2019 ,مئی 19



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے سرکاری اجلاسوں کی صدارت کرنے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا گیا۔ وکیل چودہری شعیب سلیم نے لاہور کے روبرودائر متفرق درخواست میں جہانگیر ترین کے حکومتی اجلاسوں کی صدارت کرنے پر قانونی اعتراض اٹھاکر موقف اختیار کیا کہ جہانگیر ترین کو سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دیا لیکن انہوں نے حکومتی اجلاسوں کے دوران بریفنگ لی اور احکامات جارے کئے ۔ وزیر اعظم نے جہانگیر ترین کو اجلاسوں کی صدارت کی اجازت دے کر سپریم کورٹ کے فیصلے کی نفی کی،جہانگیر ترین کو حکومتی اجلاسوں کی صدارت کرنے سے روکا جائے ۔ دوسری جانب وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سردار جہانگیر خان ترین کی پاکستان تحریک انصاف کے لئے بے شمار خدمات ہیں۔ جہانگیر ترین کی کاوش، کوشش، محنت اور صلاحیت کا میں کل بھی معترف تھا اور آج بھی ہوں، ان میں بے پناہ خداداد صلاحیتیں ہیں ۔جہانگیر ترین کا سرکاری اجلاسوں میں بیٹھنا چیف جسٹس کے فیصلہ کی تضحیک ہے، جہانگیر ترین سرکاری میٹنگز میں بیٹھیں گے تو مریم اورنگزیب او ر دیگراپوزیشن رہنمائوں کو بات کرنے کا موقع ملے گا۔ پی ٹی آئی کا کارکن اس کو ذہنی طور پر قبول نہیں کر پا رہا۔ بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنا نان ایشو کو ایشو بنانے کے مترادف ہے، پروگرام کے نام کا مسئلہ نہیں کام کا مسئلہ ہے، کام کر کے دکھائیں۔ ان خیالات کا اظہار شاہ محمدد قریشی نے گورنر ہائوس لاہور میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران میڈیا نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں جہانگیر ترین کی کاوش، کوشش، محنت اور صلاحیت کا میں کل بھی معترف تھا اور آج بھی ہوں، ان میں بے پناہ خداداد صلاحیتیں ہیں ۔ تاہم میں ان سے کہوں گا میرے بھائی جب آپ سرکاری میٹنگز میں بیٹھتے ہیں تو پھر مریم اورنگزیب کو پریس کانفرنس کا موقع ملتا ہے اور (ن)لیگ سوال اٹھاتی ہے کہ یہ توہین عدالت نہیں تو اور کیا ہے۔ 62-1(f)اگر نواز شریف پر لگ جاتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ وہ عہدے کے اہل نہیں ہیں نہ پارٹی کے اور نہ سرکار کے۔اور اگر 62-1(f)ہم پر لاگو ہو جائے تو اس کا یارڈ اسٹک اور ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا کارکن ذہنی طور پر اس کو قبول نہیں کر پا رہااور آپ پی ٹی آئی کے مخالفین کو موقع دے رہے ہیں کہ اس معاملہ کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کریں ۔ ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین تجاویز ضرور دیں مگر بیک ڈور پر بیٹھ کر۔ نجی ٹی وی کے مطابق شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہاگر جہانگیر ترین سرکاری میٹنگز میں بیٹھیں گے تو مریم اورنگزیب او ر دیگراپوزیشن رہنمائوں کو بات کرنے کا موقع ملے گا۔ جہانگیر ترین کا سرکاری اجلاسوں میں بیٹھنا چیف جسٹس کے فیصلہ کی تضحیک ہے جو انہوں نے کیا تھا اور موجودہ چیف جسٹس بھی اس بینچ میں شریک تھے جو انہوں نے فیصلہ کیا تھا۔ شاہ محمود قریشی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کے حامی پارٹی رہنمائوں کو نادان دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی کانام تبدیل نہ کیا جائے بلکہ کام سے اپنے آپ کو منوایا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم دینے پر وزیراعظم کو شاباش، علیمہ باجی اور جہانگیر ترین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران صاحب نے علیمہ باجی کو سلائی مشینوں اور جہانگیر ترین کو مالی اور باورچیوں کے ذریعے کمائی غیر قانونی جائیداد قانونی بنانے کا ایک اور شاندار موقع فراہم کردیا ہے۔ سابق وزیر اطلاعات نے کہاکہ عمران صاحب ’حلال‘ ایمنسٹی سکیم لائے ہیں تاکہ علیمہ باجی اور جہانگیر ترین اپنی غیرقانونی جائیدادوں کو ایک بارپھر حلال کرا لیں۔

متعلقہ خبریں