ماؤنٹ ایورسٹ کو بنا آکسیجن سر کرنے کا چیلنچ ،ایسی خبر جس نے دنیا بھر کو ہلا کررکھ دیا

2018 ,جنوری 4



نپال (مانیٹرنگ ڈیسک )ان کے ہمراہ 35 سالہ ہسپانوی کوہ پیما ایلکس ٹکسی کون اور چھ نیپالی گائیڈ موجود ہیں۔اسکردو کے رہائشی 41 سالہ علی سدپارہ نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ موسم سرما میں مصنوعی آکسیجن کے بغیر کوہ پیما کرنے میں کامیاب ہوں گے۔خیال رہے کہ موسم سرما میں ماؤنٹ ایورسٹ کو پولینڈ کے دو کوہ پیماؤں نے فروری 1980 میں سر کیا تھا۔علی سدپارہ نے کہا ہے کہ ‘وہ بہت پرامید ہیں کہ موسم سرما میں دنیا کی بلند ترین اور خطرناک چوٹی پر پاکستان کا جھنڈا لہر کر دنیا کا واحد کوہ پیما ہونے کا اعزاز حاصل کر سکیں گے’۔اس سے قبل جنوری 2016 میں علی سد پارہ نے غیر ملکی کوہ پیما کے ساتھ مل کر 8 ہزار 126 میڑ لمبی نانگا پربت چوٹی کو موسم سرما میں سر کیا تھا۔نانگا پربت کو دنیا میں ‘قاتل چوٹی’ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔علی سدپارہ نے کہا کہ ‘نانگا پربت کو کامیابی سے سر کرنے کے بعد ماونٹ ایورسٹ سر کرنے کے لیے انہیں وسائل کی کمی کا سامان تھا’۔علی سدپارہ نے کہا کہ نانگا پربت کو کامیابی سے سر کرنے کے بعد ان کی ٹیم کو گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ حفیظ الرحمٰن نے مدعو کیا تھا اور ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے تمام اخراجات دینے کا وعدہ کیا تھا۔علی سد پارہ نے بتایا کہ ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے لیے 80 ہزار ڈالر کی خطیر رقم درکار تھی جس کے لیے ان کے غیر ملکی دوستوں نے عالمی سماجی تنظیموں سے چندہ جمع کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’گلگت بلتستان سے تین پاکستانی کوہ پیماؤں نے ماؤنٹ ایوریسٹ موسم گرما میں سر کیا جبکہ ان کی کوشش ماؤنٹ ایورسٹ کو موسم سرما میں سر کرنے کی ہے۔واٹس اپ پر ڈان کو بھیجے گئے پیغام میں علی سدپارہ نے بتایا کہ ‘اس وقت ہم ایورسٹ کے بیس کیمپ کے ہوٹل میں ہیں جو 4 ہزار 620 فٹ کی بلندی پر قائم ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے‘۔انہوں ںے مزید کہا کہ ’سر کرنے کے لیے درکار تمام ضروری سامان ساتھ ہے، یہاں سے ہم چوٹی کی جانب اپنا سفر شروع کریں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘بیس کیمپ سے آگے انٹرنیٹ اور موبائل سروس فعل نہیں ہوگی’۔

متعلقہ خبریں