پاکستان کی گھٹیا ترین مخلوق پاکستانی سیاستدان،احمق ترین ہم عوام اس بارے میں چشم کشا رپورٹ

2019 ,جولائی 9



لاہور(شفق رپورٹ): کائنات کی سب سے گھٹیا مخلوق پاکستان کے سو کالڈ سیاستدان اور احمق ترین ہم پاکستانی عوام ہیں۔77کے انتخابات میں سیاستدانوں نے قوم کوپرو بھٹو اوراینٹی بھٹو میں تقسیم کر دیا۔ ان دونوں طبقات میں ایک دوسرے کے ساتھ نفرت عروج پر تھی۔ جنرل ضیاءالحق کا مارشل لاءلگا تو عزم کے درمیان کے نفرت کی دیوار کھڑی کرنے والے سیاستدانوں میں سے کچھ جنرل ضیاءالحق کے ساتھ مل گئے اور کچھ تحریک چلانے لگے ۔ نفرت کی دیوار وہیں رہی تاہم اِدھر کے کچھ لوگ اُدھر اور اُدھر کے کچھ لوگ اِ دھر آ گئے تھے۔ نواز شریف نے اس دور میں عروج پایا جن کے مقابل بینظیر تھیں۔ 1986ءسے میاں نواز شریف کے خلاف مشرف کے کُو تک نفرتوں کی دیوار زیادہ اونچی ہو چکی تھی۔ مشرف دور میں بھی نفرتیں موجود رہیں جو کل تھیں اور آج بھی ہیں، چارٹر آف ڈیمو کریسی کے باوجود مسلم لیگ ن او ر پیپلز پارٹی کے مابین کشیدگی احتلافات اور نفرتوں میں تھوڑی سی کمی 2008ءکے انتخابات کے دوران اور چند ماہ بعد تک ضرور آتی جب دونوں مرکز میں ن لیگ پی پی پی کی کابینہ کا حصہ بنی اور پنجاب میں زرداری کے جاننے والوں نے شہباز شریف کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے کابینہ میں شامل ہوئے مگر جلد ہی وہ بیچ چوراہے ہنڈیا پھٹی اور دال جوتوں میں بٹی نظر آئی۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی پر عوام اتفاق سے مسلم لیگ ن نے مرکزی کابینہ سے علیحدگی اختیار کر لی جبکہ پی پی پی کے وزیروں نے پنجاب کابینہ میں شمولیت کی بے غیرتی جاری رکھی بالآخر جوتے کھا کر نکلنا پڑا اور پی پی پی ن لیگ کے حامیوں کے درمیان نفرتوں کا سلسلہ پھر چل نکلا۔ جو عمران خان کی طرف سے احتساب کا کوڑا برسنے تک جاری رہا۔پانامہ کیس جس میں میاں نواز شریف کی نااہلی ہوئی اس میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی ایک ساتھ تھے، نواز شریف کی سزا پر دونوں نے یکساں شادیانے بجائے۔ آ ج دونوں باہم متحد ہیں مگر نفرتوں کی دیوار بدستور اپنی جگہ برقرار ہے مگر اب اس کے ایک طرف تحریک انساف اور دوسری طرف پی پی پی پلس مسلم لیگ ن ہے۔ یہ سیاستدان اپنے مفادات کے لیے اتحاد بناتے اور توڑتے ہیں عوام کو بے وقوف بنا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ہم عوام ایسے احمق ہیں کہ کائنات کی سب سے گھٹیا مخلوق کی باتوں میں آ کر ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پھیلاتے ، زہر اگلتے اور قتل و غارت گری تک چلے جاتے ہیں۔کل تک جن کے لیے زرداری کرپٹ اور رانا ثناءاللہ قاتل تھا آج ان کے لیے نیک و کار اور پارسا ہیں۔ کل کیا ہونا ہے؟۔ تحریک انساف پی پی پی یا ن لیگ کے ساتھ مل گئی تو ان کے زندہ باد کے نعرے لگائیں گے ۔ سیاستدانوں کا ایسا گٹھ جوڑ ان کی مفاداتی سیاست تک برقرار رہے گا بلکہ جب تک ہم جیسے احمق لوگ موجود ہیں ان کے وارے نیارے ہیں۔
 

متعلقہ خبریں