کپتان کا کھلاڑی ان ایکشن : فیصل واؤڈا نے اپنے خلاف شائع ہونے والی خبروں پر خاموشی توڑ دی، دبنگ اعلان کر ڈالا

2019 ,مئی 19



کراچی (ومانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واؤڈا نے اپنے خلاف شائع ہونے والی خبر کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی اخبار میں فیصل واؤڈا سے متعلق ایک خبر شائع ہوئی جس پر وفاقی وزیر نے خاموشی اختیار کی ہوئی تھی تاہم اب انہوں نے زبردست جواب دے دیا۔ وفاقی وزیرفیصل واوڈا نے نجی اخبار میں شائع ہونے والی خبرکی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سےمتعلق خبر جھوٹی بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی اخبارکی یک طرفہ خبرحقائق کےمنافی اور جھوٹ کاپلندہ ہے، جھوٹی خبر سےمنفی عزائم بری طرح بےنقاب ہوگئے۔ یاد رہے کہ دو روز قبل وفاقی وزیر کے حوالے سے نجی اخبار میں بیرونِ ملک میں 9 جائیدادوں کی ملکیت کے حوالے سے خبر شائع کی گئی تھی، دعویٰ تھا کہ فیصل واؤڈا لندن سمیت دیگر ممالک میں پراپرٹی کے مالک ہیں جو انہوں نے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیں۔دوسری جانب ملازمتوں کی فراہمی کے بعد فیصل واوڈا کا قرضے فراہم کرنے کا دعویٰ بھی غلط نکلا۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں غیر سیاسی ادارے کی چیک تقسیم کرنے کی تقریب کو خود روزگار پروگرام کا حصہ بنا کر پیش کیا۔ تفصیلات کے مطابق، فیصل واوڈا کے اس دعویٰ کے چھ ہفتے بعد کہ آئندہ چار ہفتوں میں بے انتہا ملازمتیں ہوں گی یہاں تک کے ادارے ملازمتوں کے لیے افراد کی تلاش کریں گے۔ جس کے بعد انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں 1000 افراد کو سود سے پاک قرضے فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کرسکیں۔ تاہم، معاصر اخبار کی اطلاع کے مطابق یہ دعویٰ بھی درست نہیں ہے۔ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے جمعے کو اپنی ٹوئٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ الحمدللہ عمران خان کی وسعت نظر کے مطابق آج بلدیہ کراچی سے خودروزگار پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔ 1000 لوگوں کو فنڈز فراہم کیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کرسکیں، جس میں وفاقی یا صوبائی حکومت کی پھوٹی کوڑی بھی استعمال نہیں کی گئی ہے۔ ان شاءاللہ جلد اسے پورے ملک میں شروع کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان شہباز گل نے بھی فیصل واوڈا کے اس ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا اور کہا کہ وہ اپنی زبان کے پکے ہیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ تقریب دراصل چیک تقسیم کرنے کی ایک تقریب تھی جو اخوت فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقد کی گئی تھی جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا سود سے پاک مائکروفنانس ادارہ ہے جو کہ غیر سیاسی اور غیر حکومتی ادارہ ہے۔ تقریباً 1000 افراد میں 20000 روپے فی کس کے چیک تقسیم کیے گئے تھے۔ جس میں فیصل واوڈا یا ان سے منسلک کسی نے ایک روپیہ بھی نہیں دیا تھا۔ انہوں نے صرف تقریب میں شرکت کی تھی اور اخوت فاؤنڈیشن کے چیک تقسیم کیے تھے۔ فیصل واوڈا نے ٹویٹ میں اخوت کا حوالہ دیا تھا لیکن یہ شائبہ بھی نہیں ہونے دیا کہ یہ تقریب کسی این جی او کی جانب سے منعقد کرائی گئی ہے اور وہ اس تقریب میں صرف مہمان کی حیثیت سے شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ اخوت آرگنائزیشن اور اس جیسے اداروں کی وجہ سے ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ آج بھی انسانیت زندہ ہے۔ عید کے بعد وزیر اعظم اس پروگرام کو بڑی سطح پر لے جائیں گے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ضرورت مندوں کی مدد کریں اور مل جل کر ایسا کرنے میں ہم کامیاب ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ اخوت آرگنائزیشن ملک بھر میں تقاریب منعقد کرتی ہے اور چیک تقسیم کرنے کی تقریب میں مقامی بااثر افراد کو مدعو کرتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل صوابی میں اس طرح کی ایک تقریب منعقد کی گئی تھی۔ اس ضلع سے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کا تعلق ہے۔ وہ بھی تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ اسی طرح بلدیہ کراچی فیصل واوڈا کے حلقے میں آتا ہے، وہاں ایک مسجد میں یہ تقریب منعقد کی گئی کیوں کہ اخوت آرگنائزیشن مقامی مساجد کے اشتراک سے تقاریب منعقد کراتا ہے۔ جن 1000 افراد کو چیک دیے گئے ان میں سے 183 کا تعلق بلدیہ، کراچی سے تھا۔ ان کا انتخاب بھی فیصل واوڈا نے نہیں بلکہ اخوت نے کیا تھا۔ باقی ماندہ افراد کو اخوت کراچی کے 10 زونل دفاتر سے وہاں لایا گیا تھا۔ منتظمین نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ اس تقریب کو سیاسی تقریب نہ بنادیا جائے یہ یاددہانی کرائی تھی کہ اخوت غیر سیاسی اور غیر حکومتی ادارہ ہے جو آزادانہ حیثیت میں کام کرتا ہے۔ تاہم وہ ہر شخص اور ادارے کو جو ان کے مشن میں شامل ہونا چاہتا ہے خوش آمدید کہتا ہے۔ تاہم فیصل واوڈا نے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی اور اسے ایسے پیش کیا جیسے چیک تقسیم کرنے کی تقریب ان کے خودروزگار اقدام کا حصہ ہے۔ اس ضمن میں فیصل واوڈا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ فیصل واوڈا ماضی میں بھی ملازمتوں کی فراہمی سے متعلق بیانات دے چکے ہیں۔ 9 اپریل کو انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ آئندہ چار ہفتوں میں بے شمار ملازمتیں ہوں گی یہاں تک کے ادارے ملازمتوں کے لیے افراد کی تلاش کریں گے۔ تین روز بعد انہوں نے کہا تھا کہ ان کی وزارت ایک سال کے اندر 28000 ملازمتیں فراہم کرے گی، کچھ روز بعد جب ان پر تنقید کی گئی تو وہ اپنے بیان پر نا صرف قائم رہے بلکہ کہا کہ اگر ان کا دعویٰ غلط ثابت ہوا تو انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے۔

متعلقہ خبریں