چوہدری پرویز الٰہی کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات ۔۔۔ کیا ڈیل پیش کی گئی اور مولانا نے کیا جواب دیا ؟ ساری کہانی سامنے آ گئی

2019 ,جولائی 24



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے واضح کیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے معاملے پر اپوزیشن کے فیصلے پر قائم ہیں، مجھے فیصلوں میں تبدیلی نظر نہیں آ رہی،پاکستان روز اول سے کشمیر پر ثالثی کے تیار ہے،ہندوستان کبھی تیار نہیں ہے۔ بدھ کو مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ (آج) جمعرات کو ملین مارچ میں پشاور میں ناموس رسالت کا تحفظ کریں، ہم عوامی سطح پر جواب دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ یوم سیاہ پورے پاکستان میں ہو گا اور تمام سیاسی جماعتیں حصہ لیں گی،اسلام آباد میں دھرنا شیڈول میں ہے فیصلہ جلد ہو گا، انہوں نے کہاکہ چیئرمین سینیٹ کے معاملے پر اپوزیشن کے فیصلے پر قائم ہیں، مجھے فیصلوں میں تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہاکہ دورہ امریکہ میں پاکستان کی بہتری کے حوالے سے کچھ موجود نہیں ہے، گزشتہ دو حکومتوں نے امریکہ سے بے نیازی کی اور چین کے ساتھ ہوئے، اب ایک جھٹکے سے ہم واپس امریکہ کے ساتھ ہو گئے، پاکستان روز اول سے کشمیر پر ثالثی کے تیار ہے اور ہندوستان کبھی تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ دیکھنا ہے کیا خطے کے مفادات اول ہوں گے یا امریکہ کے مفادات اول ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ شاید اس حکومت کے ذریعے خطے میں اپنی مرضی کے فیصلے چاہتا ہے، امریکہ نے نئے انداز سے بات کی ہے اور اس کے اپنے مفادات ہیں، شکیل آفریدی مجرم ہے جبکہ عافیہ صدیقی مجرم نہیں ہے، ان دونوں معاملات کو برابری کی سطح پر کیسے دیکھا جا سکتا ہے، عافیہ صدیقی کی گرفتاری پاکستان سے ہوئی ہے، انسانی حق کو ہم روند رہے ہیں، اسامہ بن لادن کی گرفتاری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج عمران خان کہہ رہا ہے وہ پاکستانی ایجنسی نے کیا تھا، بتایا جائے اس وقت سچ بولا گیا تھا یا آج سچ ہے۔ انہوں نے کہاکہ چوراہے پر کھڑے ہو کر عمران خان نے ہمیں جو گالیاں دینی تھیں وہ یہاں دے دیتا یہاں بھی یہی کہتا ہے وہ۔ انہوں نے کہاکہ بلاول نے بچہ ہو کر عمران سے توقع ظاہر کی ہے جو کہ عمران سے توقع ہی نہیں۔ انہوں نے کہاکہ فاٹا انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ پچیس جولائی کویوم سیاہ منا رہے ہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے جعلی انتخابات کروائے تھے، انہوں نے کہاکہ امریکہ کو ائیر پورٹ پر کونسا ویلکم کیا گیا،عمران خان کو ائیر پورٹ پر لینے کوئی نہیں آیا، ایک آدمی گیارہ ماہ امریکہ صدر سے ملنے کی ترلے کر چکا ہے۔

متعلقہ خبریں