عرب اسرائیل جنگ سال 1973

2019 ,مارچ 13



جہاں ایک طرف عربوں کو گمان تھا کہ وہ اسرائیل کو نیست و نابود کردیں گے وہیں دوسری جانب اسرائیل کو یہ یقین تھا کہ عرب فورسز انکے دفاع کی لکیر سیوز کنال کو ہی نہیں پار کرسکتے جسے ” بار لیو لائن ” کہا جاتا تھا . پر کسی طرح مصر کی فوج اس دفاعی لکیر کو تار تار کرنے میں کامیاب ہوگئیں ، اور اگر بروقت اسرائیل کو امریکی فوج کی مدد نا پہنچتی تو عرب فوجیں اسرائیل کو صفحه ہستی سے مٹا چکی ہوتیں .
یہ جنگ تو اسرائیل جیت گیا پر وہ دفاعی لکیر جسے دنیا کے تمام جنگی ماہرین ناقابل تسخیر سمجھتے تھے اسکا اس طرح سے گر جانا اسرائیل کے لئے سخت لمحۂ فکریہ تھا . لہٰذا اسرائیل کے اعلیٰ دماغ مل کر بیٹھے اور ایک ڈاکٹرائن متعارف کروائی جسے ” ٹینتھ مین رول 10 مین رول” کہا جاتا ہے .
مختصرا بتاتا چلوں تو اس ڈاکٹرائن کے رو سے اگر کسی پلان میں 9 بندوں کا اتفاق ہو تو دسواں بندہ لازمی اس سے اختلاف کرے گا پھر چاہے اسکی مخالفت کتنی ہی مشکل اور بیوقوفی والا عمل لگے پر اس نے اعتراض کرنا ہے اور چھوٹی سے چھوٹی خامی کو ڈھونڈ کر نکالنا ہے . یعنی دسویں شخص کا کردار "ڈیویل ایڈووکیٹ” والا ہوگا .

اس ڈاکٹرائن کو مدنظر رکھتے ہوئے اسرائیل نے ایک ایجنسی بنائی جس کا نام ایفک  میستبڑا  ہے جسے عام دنیا میں "ریڈ ٹیم” کے نام سے جانا جاتا ہے . اس تنظیم یا گروپ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اسرائیل کے سب سے ذهین افراد شامل ہیں ، ان افراد کے پاس اسرائیل کی ملٹری سے لیکر سیاستدانوں اور اجنسیوں کے تمام راز ہیں ، انہیں کسی جگہ جانے پر کوئی روک ٹوک نہیں ، یہ کسی بھی تنظیم میں اپنا ایجنٹ شامل کرسکتے ہیں ، کوئی سیاسی پلان ہو یا مذہبی ، معاشی پلان ہو یا اسٹریٹجک پلان . جب تک ایفک  میستبڑا اس پلان کو پاس نا کرے تب تک وہ پلان نافذ عمل نہیں ہوتا .
جب ان کے سامنے کوئی پلان لایا جاتا ہے تو یہ 10مین رول میں خود کو ڈھالتے ہوئے اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں .اس کے بعد انکا کام شروع ہوتا ہے جس میں یہ اس پلان میں شامل باریک سے باریک نقطۂ کو بھی ڈسکس کرتے ہیں ، تنظیم سے لیکر اسرائیل کی عوام اور حتیٰ کہ دنیا کے کون کون سے ممالک میں اس پر کیا ردعمل ہوگا سب ڈسکس کیا جاتا ہے اور جب انکی تسلی ہوجاتی ہے تب وہ پلان منظوری کے لئے وزیر اعظم کے پاس جاتا ہے اور پھر وزیر اعظم کے پاس بھی یہ اختیار نہیں کہ وہ ایفک  میستبڑا کے منظور شدہ پلان کو رد کرسکے یا انکے رد کردہ پلان کو منظور کرسکے .
تو جناب اس طرح  ایفک  میستبڑا پورے اسرائیل کا 10مین ہے ، اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے 26کروڑ سے زائد عرب اور فارسیوں کے درمیان محض 85 لاکھ آبادی پر مشتمل اسرائیل سالم حالت میں نا صرف موجود ہے بلکہ انہیں آنکھیں بھی دکھا رہا ہے .

اب آجائیں اپنی طرف کہ ہم کیا کرتے ہیں ، اول تو آپ فوج اور سیاستدانوں کی حالیہ رسہ کشی دیکھ لیجئے جس میں ایک دوسرے کی خامیاں اور کمزوریاں دکھانا اور بتانا انا کا مسئلہ بنا ہوا ہے . دوسری جانب آجائیے ہمارے مذہبی طبقہ پر جو سینکڑوں سالوں سے مناظرہ تو ایک دوسروں سے کر رہے پر ایک دوسرے کا مشوره سننا تو دور ایک دوسرے کی ذات کو ہی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں ، تیسری جانب آجائیے ہم عوام پر یعنی میں اور آپ بلکہ ایسا کریں کہ تھوڑا اور قریب فیس بک پر ہی آجائیں .
یہاں ہم کتنی مخالفت برداشت کرتے ہیں ؟

جواب 

جو جتنا بڑا دانشور ہے وہ اتنا ہی اپنی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا ، انہیں اپنا کہا پتھر پر لگی ایسی پختہ لکیر لگتا ہے کہ اگر کسی نے انکی بات ماننا تو دور ہلکا سا اعتراض بھی کردیا تو سیدھا ” بلاک ” کی کال کوٹھڑی کا حقدار ٹھرتا ہے ، حلانکھ خود احتسابی تو ہمارے دین کا خاصہ تھی . اپنے گریباں میں جھانکتے رہنے کی تلقین تو ہمارے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کرتے رہے ، خود کو ٹھیک اور دوسروں کو بنا پرکھے غلط سمجھنے کی روش تو اہل قریش کی تھی کہ جب وہ جانتے بوجھتے کہ محمد سے سچا سے زیادہ کوئی نہیں پھر بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننے سے انکاری بیٹھے رہے .
یہ جو آج سول ملٹری تعلقات کا مسئلہ چل رہا یہ صرف سول ملٹری تک نہیں بلکہ پوری امت محمدی صلی الله علیہ وسلم کا مسئلہ ہے .
عرب فارس کی نہیں سنتا تو فارس عرب کی نہیں سنتا ، برصغیر کا رہنے والا افریقی کی بات نہیں سننا چاہتا تو کرد اور ترک ایک دوسرے کو کسی بھی کھاتے میں ڈالنے سے انکاری ہیں .
کوئی ایک سپہ سالار
کوئی ایک سیاستدان
کوئی ایک مذہبی رہنما

کوئی بھی ایک یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ ” ہاں میں غلط بھی ہوسکتا ہوں ، میرے فیصلے میں خامی بھی ہوسکتی ہے ” حتیٰ کہ اتنے بڑے بڑے بلنڈرز کرنے کے بعد بھی مجال ہے جو کوئی خود کو غلط کہے الٹا انکے مریدین و حامی انکے غلط فیصلوں کی ایسی تشریح کر کے اسے صحیح ثابت کرنے میں تلے رہتے ہیں کہ ماہر حساب ڈان بھی چکرا جاۓ .

اور اس ڈھٹائی کا نتیجہ آپ خود دیکھ لیں .
کہنے کو تو اسلامی ریاستیں ہیں پر اگر انکی عوامی رائے لینا شروع کریں تو ہر دوسرا شخص کسی پہلے کی نظر میں کافر ہوگا اور وجہ محض اتنی کہ اس نے ” سوال ” پوچھ لیا ہوگا یا کسی کی کوئی خامی گنوا دی ہوگی . نماز روزہ بھلے نہیں کرتا ہوگا پر ایک تلوار ہاتھ میں ضرور پکڑ رکھی ہوگی جو سیدھا کسی مسلمان پر تنی ہوگی کہ اس نے میری عقل کو غلط کیسے کہ دیا ؟

بہرحال کوئی نہیں ، خیر ہے لگے رہو، ویسے بھی پچاس ساٹھ سالہ زندگی ہے پھر تو جنت میں ہی جانا ہے لہٰذا اس دنیا میں سدھرنے کی ضرورت ہی کیا ہے !!!

متعلقہ خبریں