ایک ہفتے میں حکومت کا خاتمہ ۔۔۔۔ زرداری ہاؤس میں اپوزیشن جماعتوں کی افطار پارٹی سے تہلکہ خیز بریکنگ نیوز آگئی

2019 ,مئی 19



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عید الفطر کے بعد اپوزیشن جماعتیں ایوان کے اندر اور باہر حکومت کے خلاف علیحدہ علیحدہ احتجاج کریں گی۔ تفصیلات کے مطابق دعوتِ افطار کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی جس میں بلاول بھٹو، شاہدخاقان عباسی ، مریم نواز ،حمزہ شہباز ، مولانافضل الرحمان، حاصل بزنجو اور دیگر سیاسی رہنما شریک تھے۔ بلاول بھٹو نے افطار پر آنے والے تمام رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ویسے تو ہر سیاسی جماعت کا اپنا منشور اور اپنا نظریہ ہے، مگر کوئی بھی سیاسی جماعت تنہا مسائل کا حل نہیں نکال سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن کوسیاسی،معاشی صورتحال اوردیگر اہم امور پر بات کرنے کا موقع ملا، تمام جماعتوں نے مستقبل میں بھی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں مل بیٹھیں گی تو بہترین پالیسی، مسائل کا حل نکال سکیں گے، عید کے بعد اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کےاندراور باہر احتجاج کریں گی تاہم اُس سے قبل مولانافضل الرحمان کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس ہوگی جس میں لائحہ عمل طے کیا جائے گا، ملک کے مسائل کےحل کیلئے اپوزیشن اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو افطارپربلانے پرآصف زرداری کا شکریہ اداکرتاہوں، افطار کےموقع پرملکی صورتحال پر گفتگو اور بات چیت کا موقع ملا،ملک کو چیلنجز کاسامنا ہے اور ہم مل کر ملک کو اس صورت حال سے باہر نکالیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک کو سنبھالنا قومی فریضہ ہے جس کیلئے ہم سب آج جمع ہوئے، مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس کاانعقاد ہوگا، اپوزیشن نے عیدکےبعدآل پارٹیز کانفرنس کی ذمہ داری مجھے دی ہے، جس کے انعقاد کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم اور حکمت عملی کیساتھ میدان میں آئیں گی اور ہماری کوشش ہوگی ایک ہی کاز کےساتھ میدان میں اتریں، سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم سے عوام کی آواز بننے کی کوشش کریں گی۔ مسلم لیگ ن کے نائب صدر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن میں اتفاق ہے کہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی، احتساب کے بعد پر اپوزیشن کو دبانے کی کوشش ہورہی ہے، بدقسمتی سےموجودہ صورتحال میں مہنگائی کا سیلاب تھمنے والا نہیں ہے۔ نیشنل پارٹی کے صدر میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی اےپی سی ملک میں تاریخی طورپر نئے اتحاد کو جنم دےگی ، ملک میں اسوقت مضبوط سیاسی اتحاد کی ضرورت ہے، حکومت کو گرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ 60 فیصد اپوزیشن اراکین حکومت کے ساتھ ہیں اور اگر سب مل کر مستعفیٰ ہوں تو حکومت خود بہ خود ختم ہوجائے گی۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے حکومت مخالف احتجاج کو حتمی شکل دیتے ہوئے عید کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر احتجاج سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ نجی نیوز کے مطابق حکومت کے خلاف احتجاج پر مشاورت کے لیے آج تمام اپوزیشن پارٹیوں کے رہنما پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دیئے گئے افطار ڈنر میں شریک ہوئے۔ اجلاس کے بعد رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال سب کے سامنے ہے، مختلف امور پر اتفاق رائے طے پایا ہے آئندہ بھی ملنے کا عمل جاری رہے گا تاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے بہترین پالیسی مرتب کرسکیں۔

متعلقہ خبریں