مشہور کمپنی نے ایسے جوتے تیار کرلیے جس کے بعد آپ کو تسمے باندھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع ستمبر 29, 2016 | 17:34 شام

اوریگون: سائنس دن بدن ترقی کی نئی منازل طے کرتی جارہی ہے اور ہر روز نت نئی ایجادات انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہیں لیکن اب جوتے بنانے والی مشہور امریکی کمپنی نائکی نے ”ہائپر اڈیپٹ 1.0“ کے نام سے جوتے پیش کیے ہیں جو خودکار طور پر اپنے تسمے باندھ سکتے ہیں۔ نائکی (Nike) کی جاری کردہ تصاویر کے مطابق یہ سائنس فکشن فلم ”بیک ٹو دی فیوچر“ میں دکھائے گئے جدید جوتوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ ان جوتوں کی ایڑی میں لگی ہوئی نیلی ایل ای ڈی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ان میں ایسا نظام پوشیدہ ہے جو انہیں پہننے
والے کے چلنے پھرنے پر اپنے اندر بجلی ذخیرہ کرتا ہے۔ اس طرح کے نظام ”بجلی کی چلتی پھرتی پیداوار“ کہلاتے ہیں جن میں پیزوالیکٹرک نامی خصوصی مادّوں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ ان میں یقینی طور پر ایسے سینسر بھی نصب ہیں جو اپنے پہننے والے کا پاؤں محسوس کرتے ہیں اور جوتے کے اندر موجود نظام کو ہدایات جاری کرتے ہیں کہ فیتوں کو کس حد تک سختی یا نرمی سے باندھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ان جوتوں کو اتارنے کے لیے فیتوں کو تھوڑا سا کھینچنے کی ضرورت ہوگی اور وہ خود بخود ڈھیلے پڑتے چلے جائیں گے۔ امریکا میں ان جوتوں کی فروخت آئندہ 2 ماہ میں شروع کی جائے گی اور ابتداءمیں یہ صرف کمپنی کی ویب سائٹ پر اور منتخب اسٹورز ہی سے دستیاب ہوں گے۔