نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔

2017 ,مئی 5



 نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ یہ محاورہ ایسے بنا: رادھیکا، رادھا رانی یا شریمتی رادھیکا ہندوؤں کی روائتی مذہبی داستانوں میں عورت کا اہم ترین کردار ہے جو شری رام کرشن کے ساتھ مل کر مدھو بن میں گنگا کنارے ناچتی تھی، اور جس میں بہت سی گوپیاں بھی حصّہ لیتی تھیں۔ اس قسم کے ناچ چاندنی رات میں رات رات بھر ہوتے تھے. واضح رہے کہ گوپیاں وہ گوالنیں تھیں جن کے گاؤں میں سری کرشن کی بچپن سے پرورش ہوئی تھی۔ ان کا ماموں اس علاقے کا ظالم راجہ تھا، جسے جوتشیوں نے بتایا تھا کہ آٹھواں اوتار اس کی بہن کے گھر جنم لے گا اور اس کی حکومت ختم کردے گا۔ اس سے بچانے کے لیے ماں باپ نے کرشن کی پیدائش کو چھپا کر ان کو پالنے کے لیے گوالوں کے حوالے کر دیا تھا۔ یہاں رادھا بھی ایک گوپی تھی۔ جو بعد میں دیوی بنا دی گئی۔ ' اس رات بھر کے رقص و موسیقی میں کرشن اور رادھا کلا کے کلیان دکھایا کرتے تھے اور ہر ممکن و ناممکن چیز کی کلا کرتے تھے۔ اس لحاظ سے رادھا کا ناچ ایک سب سے انوکھی چیز بن گیا۔ ' کہتے ہیں کہ کسی راجا نے رادھا کو اپنے محل میں ناچ دکھانے پر مجبور کرنا چاہا، مگر رادھا کا ناچ صرف کرشن کے لیے ہوتا تھا۔ وہ راجہ کو انکار بھی نہیں کرنا چاہتی تھی کہ وہ دشمنی پر اتر آئے گا۔ اس لے اس نے راجا سے کہا کہ جس ناچ کی آپ نے فرمائش کی ہے اس کے لیے تو چپّے چپّے پر دیے روشن کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اور اتنے دیے جلانے کے لیے نو من تیل درکار ہوگا۔ نو من تیل کہاں سے آتا، چنانچہ رادھا کی شرط پوری نہیں ہوئی اور اسے ناچ نہیں دکھانا پڑا۔ '

متعلقہ خبریں