نوشہرو فیروز میں آصف زرداری حکومت پر جی کھول کر برسے

2017 ,جولائی 1



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ایک طرف آسمان سے بادل برس رہے ہیں اور دوسری طرف پیپلز پارٹی کے رہبر حکومت پر برس رہے ہیں۔ خدا خیر کرے کہاں میثاق مفاہمت کے تحت میاں صاحب کامل 5 سال ایک زرداری سب پر بھاری کو برداشت کرتے رہے۔ عوام کو بھی انہیں بادل نخواستہ برداشت کرنے کا مشورہ بنام جمہوریت دیتے رہے۔ آج جب میاں صاحب پر کڑا وقت ہے تو زرداری صاحب بھی ان پر وار کرنے لگے ہیں۔موصوف نے نوشہرو فیروز میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایسے ایسے دعوے کئے کہ شاید خود پیپلز پارٹی کے پرانے اور حقیقی کارکن بھی صدمے سے اپنی قوت سماعت اور قوت گویائی کھو بیٹھے ہوں گے۔ موصوف کہہ رہے تھے کہ بھٹو کے 1973ء کے آئین کو ہم نے مکمل کیا۔ ملک آج بھی وہاں کھڑا ہے جہاں ہم نے چھوڑا تھا۔ بجلی اور پٹرول کی قیمت ہمارے دور سے کئی گنا زیادہ ہے۔ خدا جانے وہ کرپشن کو کیوں بھول گئے یہ کیوں نہیں کہا کہ کرپشن بھی ہمارے دور سے بڑھ گئی ہے۔ شاید یہ اعزاز وہ اپنے پاس ہی رکھنا چاہتے ہوں۔ اب کیا فرماتے ہیں پیپلز پارٹی کے قدیم کارکن کہ زرداری صاحب نے تو بھٹو صاحب سے مکمل آئین پیش کرنے کا اعزاز بھی چھین لیا۔ کیا بھٹو نے ادھورا آئین پیش کیا تھا جو زرداری نے مکمل کیا ہے۔ بے نظیر ہوتیں تو ضرور جواب دیتیں۔ کیا کوئی بھٹو کا دیوانہ زرداری جی کو جواب دینے کی جرأت رکھتا ہے۔…

متعلقہ خبریں