ایسا لگا جیسے پاکستانی شائقین دلہن لینے آئے ہوں: بی بی سی

2017 ,جون 16



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک):یہ تو ہم پاکستانیوں کی فطرت ہے۔ وہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ نفرت ہو یا محبت کھل کر اس کا اظہار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے شادی بیاہ ہو یا موت کا غم دونوں مواقع پر ان کی جذباتی کیفیت سب سے جدا نظر آتی ہے۔ ذرا اپنے اردگرد ہی دیکھ لیں کہیں کوئی بارات جا رہی ہو تو راہ چلتے منچلے خود ہی اس کے بینڈ باجے پر رقصاں ہوتے ہیں۔ اسی طرح جنازہ ہو تو بے شمار کاندھا دینے والے اردگرد سے آ کر شامل ہوتے ہیں۔ یہ خوبصورت رسم و رواج یورپ میں اب خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ جہاں جذبات اور احساسات کی ڈور ٹوٹتی جا رہی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں ہی دیکھ لیں پاکستانی جیت پر کس طرح جشن منایا گیا آتش بازی کی گئی۔ یہی وجہ ہے جب کارڈف کے صوفیہ گارڈن سٹیڈیم میں جب پاکستانی ٹیم سری لنکا کو ہرانے کے بعد انگلینڈ کے خلاف میچ کھیلنے آئی تو پورے برطانیہ سے کرکٹ کے شائقین اپنی قومی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے سٹیڈیم کی طرف کھنچے چلے آئے۔ پورے سٹیڈیم میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچموں کی بہار تھی۔ کھلاڑیوں کے ساتھ شائقین کے بھی حوصلے بلند تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی میلہ لگا ہے۔ حالانکہ انگلینڈ کے ہارنے کے امکانات بہت کم تھے مگر سر پھرے جنونی پاکستانی ہار جیت سے بے نیاز ڈھول باجوں کے ساتھ سٹیڈیم کی طرف رواں دواں تھے۔ رنگ برنگے کپڑے پہنے اور کپڑوں اور چہروں پر پاکستانی پرچم پینٹ کرکے ناچتے گاتے جھومتے شائقین کو دیکھ کر انگلینڈ والے بھی حیران تھے۔ بی بی سی والوں کو بھی یہ اچھلتے کودتے شائقین کسی بارات کا حصہ معلوم ہوئے۔

متعلقہ خبریں