دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا

2017 ,جولائی 11



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک):وہ کہتے ہیں ناں....

دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا

زندگی اب تیرا اعتبار نہ رہا

وہی بات یہاں بھی ہوتی نظر آتی ہے۔ آخر کب تک کوئی کسی کی بے مروتی بے وفائی برداشت کر سکتا ہے۔ اس صورتحال میں جب دل بہلانے والے اور بھی موجود ہوں تو پھر ہر وقت کسی ایک کے در پر پڑے رہنے جھڑکیاں سہنے کی ضرورت کس کو ہے۔ ویسے بھی پاکستان کوئی گرا پڑا ملک تو ہے نہیں۔ قدرت نے اسے اہم جغرافیائی مقام عطا کیا ہے۔ عسکری لحاظ سے وہ دنیا کے چند گنے چنے ایٹمی ممالک میں اہم مقام رکھتا ہے۔ اس کے باوجود بھی وہ عرصہ دراز سے امریکہ کی سیاسی زلفوں کا اسیر رہا ہے۔ اس کی جھوٹی محبت میں سرشار رہنے کی وجہ سے پڑوسی ملک روس کا بھی دوستی سے بڑھایا ہاتھ جھٹکتا رہا ہے۔ مگر ڈو مور ڈو مور اور دہشت گردی کے الزامات کی بھرمار اور بوچھاڑنے بالآخر پاکستان کی آنکھوں سے امریکہ کی جھوٹی محبت کا خواب توڑ دیا ہے۔ اب حقیقت کی دنیا میں واپس آنے کے بعد پاکستان نے چین کی بے مثال مخلصانہ محبت اور دوستی کے سہارے روس کی طرف اپنائیت کا ہاتھ بڑھایا ہے تو پاکستان نے بھی گرمجوشی سے اسکا استقبال کیا ہے۔ اس پر امریکی میڈیا تلملا اٹھا ہے۔ اس سے پاکستان کی یہ بے اعتنائی برداشت نہیں ہو رہی۔ دوریاں تو خود امریکہ نے پیدا کی ہیں جب وہ ہمارے دشمنوں کی سرپرستی کریگا تو ہمیں کیا پڑی اس کی ہمنوائی میں جان کھپانے کی۔ اسلئے اب امریکہ کو نئے دوست اور پاکستان کو بھی اسکے نئے دوست مبارک ہوں۔

متعلقہ خبریں