مودی کی پھر سبکی، جرمن چانسلر نے ہاتھ نہیں ملایا

2017 ,جون 1



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ایک تصویر سو الفاظ پر بھاری ہوتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نظرانداز کرکے انہیں پروٹوکول سمجھانے والی جرمن چانسلر کی تصویر دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مودی جی کی اس موقع پر کیا حالت ہوئی ہو گی۔ یہ ان کے ساتھ پہلی بار نہیں ہوا پہلے بھی ایک یورپی ملک کے دورے کے موقع پر موصوف بڑے طمطراق کے ساتھ ہاتھ آگے بڑھا کر جرمن خاتون چانسلر سے ہی ملنے آئے تو انہوں نے نہایت روکھے انداز میں ان سے ہاتھ ملانے کی بجائے انہیں آگے کا راستہ دکھایا۔ اب تو لگتا ہے انہیں عادت ہو گئی ہو گی اس طرح کی سبکی کی۔ نجانے کیوں وہ کہیں جا کر ترنگ میں آ جاتے ہیں اور خود کو سب سے بڑی جمہوریت کا سربراہ کچھ زیادہ ہی سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے ایک انڈین ہیں۔ جی ہاں وہی انڈین جنہیں گورے انگریز حاکم نفرت سے کالے انڈین کہتے تھے۔ یہی کالے انڈین والی حقارت آج بھی ان میں پائی جاتی ہے۔ وہ کسی بھی انڈین کالے کو اپنے برابر کا سمجھتے ہی نہیں۔ اب بھلے مودی جی جرمنی کے دورے میں وہاں کی حکومت کے ساتھ درجنوں معاہدے کریں، پریس کانفرنس کریں مگر یہ ہاتھ نہ ملانے کی سبکی سوہان روح بن کر ان کے ساتھ نتھی ہو جائیگی۔ پورے بھارت میں پہلے ہی ہندوتوا پالیسی کی وجہ سے ان کی بے عزتی ہوتی رہتی ہے۔ یہ تو چلو گھر کی بات تھی مگر باہر جا کر جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔

متعلقہ خبریں