پاکستان ٹرمپ کی تعریف کا محتاج نہیں: رانا ثناءاللہ

2017 ,مئی 24



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ایسے بیانات کی وجہ سے رانا جی کی شگفتہ بیانی کے سامنے تو منورظریف، ننھا، لہری، رنگیلا اور علی اعجاز کی مزاحیہ جملہ بازی بھی ماند پڑنے لگتی ہے کیونکہ رانا جی بے ساختہ یا نادانستگی ایسے ایسے بیان جاری کرتے ہیں کہ قریب المرگ لوگوں کے منہ سے بھی ہاسا نکل جاتا ہے۔ اب ان کا یہ کہنا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں اس کےلئے ہم ٹرمپ کی تعریف کے محتاج نہیں۔ تو پھر ہم سعودی عرب کیا لینے گئے تھے۔ یہ ٹرمپ سے ملاقات ہماری اول و آخرخواہش کیوں بن گئی تھی۔ ہماری ہر حکومت امریکہ کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کیوں کرتی ہے اور یہ جو آج ٹرمپ صاحب پر پاکستانیوں کو غصہ ہے تو اس کی وجہ کیا یہ نہیں کہ انہوں نے سعودی عرب میں دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہمارے کردار کو فراموش کر دیا۔ ہماری قربانیوں کی طرف سے آنکھیں بند کرکے ان ممالک کو شاباش دی جن کا یہ مسئلہ ہے ہی نہیں بلکہ ان میں کئی ممالک تو خود دہشت گردوں کے حمایتی ہیں۔ اب بھلا بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے ممالک کے سربراہوں سے ٹرمپ ملاقات کر سکتے ہیں تو ہمارے وزیراعظم نے کون سا ان کا باغ اجاڑا تھا، امرود چوری کئے تھے کہ انہوں نے لفٹ نہیں کرائی۔ ایک طرف ہمارے وزیراعظم صرف ٹرمپ سے ہاتھ ملانے کو گرم جوش ملاقات کہہ رہے ہیں تو دوسری طرف یہ درباری اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ الاپ رہے ہیں۔ ایک طرف ہم ٹرمپ کیلئے

زندہ رہنے کے لئے تیری قسم

اک ملاقات ضروری ہے صنم

کی زندہ تصویر بنے نظر آتے ہیں۔ تو دوسری طرف رانا جی ہم سے مخول کرتے پھرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں