کھٹمل، جوئیں، کاکروچ ، چھپکلی، چوہے، بچھو اور سانپ تو ہماری جیلوں کا زیور

2017 ,جون 30



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): گزشتہ روز جس طرح جمشید دستی نے رو رو کر جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے مظالم بیان کئے۔ انہیں سن کر تو پتھروں نے بھی آنسو بہائے ہوں گے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ وہ جس جیل میں بند ہیں وہاں سانپ اور بچھو چھوڑے جاتے ہیں اور 6 دن سے انہیں کھانا بھی نہیں دیا گیا۔ اب بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ حضرت ہماری جیلیں کوئی یورپ کی جیلیں تو ہیں نہیں جہاں ہر قسم کی آسائش ہو اور بروقت اچھا کھانا بھی دیا جائے۔ ہماری جیلوں میں سانپ اور بچھو نہیں ہوں گے تو کیا ہاتھی اور گھوڑے ملیں گے۔ یہ کھٹمل، جوئیں، کاکروچ ، چھپکلی، چوہے، بچھو اور سانپ تو ہماری جیلوں کا زیور ہیں۔ جن کا ساتھ قیدیوں کو نبھانا ہوتا ہے۔ جمشید دستی سے قبل ہمارے بڑے بڑے سیاسی قیدیوں نے نہایت خندہ پیشانی سے ان بلائوں کا مقابلہ کیا۔ ظلم و تشدد کے ساتھ ان سے بھی نبھاہ کیا۔ اب عدالت میں جس طرح دستی صاحب نے تقریباً روتے ہوئے افتخار تاری کی طرح ظلم کی داستان سنائی۔ اس سے معلوم نہیں کسی کا دل پسیجایا یا نہیں مگر ہمارے نئے سیاستدانوں کی سبکی ضرور ہوئی ہے کیونکہ پہلے کے ہمارے دبنگ اور نڈر سیاستدان تو فرنگی دور سے لے کر مارشل لا اور جمہوری ادوار میں جیلوں میں بند ہوتے رہے مگر کسی نے ان چھوٹی موٹی شکایات کا رونا نہیں رویا۔ اب دستی صاحب بھی شیر بنیں شیر، ورنہ وہی ’’ماڑی سی تے لڑی کیوں سی‘‘ والی بات ہو گی انہیں کس نے کہا تھا نہر کا گیٹ کھولنے کو سرکاری کام میں مداخلت کرنے کو…

متعلقہ خبریں