کیس جیتے تو کلائنٹ کی آنکھ کا تارا ہار جائے تو بھی فیس کھری

2017 ,جولائی 29



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): بابر اعوان کو پیشگوئی کرنے اور اس کے پورا ہونے پر کریڈٹ فراخ دلی سے دینا چاہئے۔ وہ کامیاب وکیل ہیں کیونکہ وکیل کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ کیس جیتے تو کلائنٹ کی آنکھ کا تارا ہار جائے تو بھی فیس کھری۔ بابر اعوان کی طرف سے پاناما کیس میں ڈرائیونگ سیٹ پر آنے کے بعد نعیم بخاری کو سٹپنی کہا جانے لگا ان کا قول سدید ہے کہ وکیل کبھی نہیں ہارتا کلائنٹ ہارتا ہے۔ نعیم بخاری کو ہم سٹپنی کہنے کی جسارت نہیں کر سکتے تاہم ان کیلئے حالات سازگار رہے کہ کیس کا فیصلہ ان کے حق میں ہو گیا۔ صرف حالات کے سازگار ہونے پر فیصلے کا کریڈٹ ان کو نہیں دیا جا سکتا ان کی اہلیت کا بھی اعتراف کرنا ہو گا۔ بابر اعوان فیصلہ کا کریڈٹ لیتے تو یہ بھی بجا تھا۔ وکالت کے ساتھ کئی لیجنڈ سیاست کرتے ہیں اور بھی کاروبار کرتے ہونگے۔ بابر اعوان نجومی بن سکتے ہیں۔ ایک لیڈی ڈاکٹر الٹرا سائونڈ کے بغیر آنے والی خواتین کو بتاتی ’’لڑکا ہو گا‘‘ ایسا ہو تا تو خاتون مٹھائی لے آتی۔ لڑکی ہوتی تو شکوے کیلئے حاضر ہوتی۔ ڈاکٹر صاحبہ اس کا گلا سنتے ہوئے ڈائری اٹھاتی اور خاتون کو دکھاتے ہوئے کہتی یہ دیکھو میں نے ’’لڑکی‘‘ لکھا ہوا ہے۔ شاید میری زبان سے لڑکا نکل گیا ہو یا آپ کو غلط فہمی ہوئی ہو۔ لڑکی کو لڑکا سمجھ لیا ۔ بہر حال ڈاکٹر بابر اعوان بھی نجومی بن کر ایسے کئی ٹوٹکے بروئے کار لا سکتے ہیں۔ یاسین وٹو صاحب کے سوا اکثر نجومیوں کی ایسی ہی پیشگوئیاں ہوتی ہیں یاسین وٹو اپنے کالموں میں ن لیگ کے حامیوں کو حوصلہ دلاتے رہے کہ میاں نوازشریف کیخلاف فیصلہ آنے کا امکان نہیں وہ یہ سب ان کا سیاسی تجزیہ تھا جبکہ انہوں نے ہمیشہ کہا کہ نوازشریف کے صحیح جاں نشین شہبازشریف ہیں۔ انہوں نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ شہبازشریف پاکستان کے وزیراعظم ہوں گے۔ انکی یہ پیشگوئی پوری ہوتی نظر آ رہی ہے۔ میاں نوازشریف کی نا اہلی سے لیگی حلقوں میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے مگر آصف کرمانی سینیٹر بننے پر خوش ہو رہے ہونگے تاہم ان کیلئے شکل پر بارہ بجائے رکھنا ضروری ہے۔ ان کو بابر اعوان کی جگہ سنیٹر بنایا گیا ہے اور وہ بھی بلا مقابلہ سنیٹر بنے ہیں۔ وزیر بننے کی آرزو تو کئی اور کی بھی تھی مگر اب وہ زیر زمین چلے گئے اور شاید منزل کی تلاش میں سرنگیں کھود رہے ہوں۔

متعلقہ خبریں