سکھ یاتری اٹاری سٹیشن پر بیٹھے انتہا پسند متعصب مودی سرکار کی جان کو رو رہے ہیں۔

2017 ,جون 30



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): یہ سکھ یاتری پاکستان میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریبات میں شرکت کے لئے آ رہے تھے۔ مگر بھارت سے یہ بھی برداشت نہیں ہو رہا کیونکہ اسے خطرہ ہے کہ سکھ یاتری پاکستانیوں کے حسن سلوک کی وجہ سے ان کے گرویدہ ہوتے چلے جا رہے ہیں اور واپس آ کر باقی سکھوں کو بھی اصل صورتحال بتاتے ہیں۔ ویسے بھی اگر بھارت نے روکنا ہے تو وہ اپنے جاسوسوں، دہشت گردوں اور تخریب کاروں کو پاکستان میں داخلے سے روکے جن کو روکنا ہے انہیں تو بھارت روکتا نہیں۔ بے چارے سکھ یاتریوں کو روک رہا ہے۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھارت سرکار کو مہاراجہ رنجیت سنگھ سے کوئی دلچسپی ہی نہ ہو وہ انہیں بھی بھنڈرانوالہ کی طرح علیحدگی پسند سکھ تسلیم کرتی ہو۔ جس کے خوف سے وہ سکھ یاتریوں کو ان کی برسی میں شرکت کرنے کے لئے پاکستان جانے نہیں دے رہی۔ بھنڈرانوالہ کی کوشش تھی کہ آزاد خالصتان قائم ہو جہاں خالصتانیوں کی حکومت ہو۔ شاید وہ بھی مہاراجہ رنجیت سنگھ سے متاثر تھا جو سکھوں کے عظیم حکمران ہیں۔ ان کی برسی پر پاکستان نے تو روایتی دریا دلی کا ثبوت دیتے ہوئے 300 یاتریوں کے لئے خصوصی ٹرین بھی تیار کر کے لاہور سے بھیجی تھی بھارت نے اسے بھی قبول نہیں کیا اور واہگہ بارڈر سے واپس بھیج دیا۔ اب یہ سکھ یاتری کئی روز سے اٹاری سٹیشن پر بیٹھے انتہا پسند متعصب مودی سرکار کی جان کو رو رہے ہیں۔ یہ تو شکر ہے اٹاری پنجاب میں ہے اگر کسی ہندو اکثریتی شہر میں ہوتا تو اب تک ان سکھوں کو جنونی ہندو کب کا براہ راست مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پاس پہنچا چکے ہوتے۔

متعلقہ خبریں