مفتی صاحب ایک قویٰ اور بااثر شخصیت ہیں۔

2017 ,جولائی 17



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): مرحومہ ماڈل گرل قندیل کے ساتھ بے باک تصاویر بنوانے والے مفتی صاحب کی تو بات ہی نرالی ہے۔ قندیل کے ساتھ اپنی تصاویر عام ہونے کے بعد بھی وہ پریشان نہیں تھے بلکہ ان تصاویر کے لیک ہونے کے بعد اصل پریشانی قندیل کو لاحق ہو گئی اور بالآخر اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ مقدمہ قتل میں مفتی صاحب کا بھی نام آیا مگر وہ ایک قویٰ اور بااثر شخصیت ہیں اسلئے ابھی تک عدالت نے انہیں طلب نہیں کیا اور نہ پولیس والوں نے انہیں روایتی پوچھ گچھ کے لائق سمجھا۔ قندیل چونکہ ایک عام گھرانے کی بے باک باغی قسم کی لڑکی تھی۔ اس لئے اسے اسی کے گھر والوں رشتہ داروں کے ہاتھوں مروانے والے آج تک پردہ راز ہیں۔ یوں یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔ اب قندیل کی پہلی برسی پر بی بی سی کی ایک خاتون رپورٹر جب مفتی عبدالقوی سے بات چیت کے لئے انٹرویو کے لئے پہنچی تو یہاں بھی مفتی صاحب اپنی روایتی خوش مزاجی کا مظاہرہ کرنے سے نہ چوکے۔ نہایت عالمانہ انداز میں انہیں ان کے نام کا مطلب بتانے کی کوشش کرتے ہوئے چہرے کو چھونے کی کوشش کی۔ ان کے اس الزام کے جواب میں حسب سابق مفتی صاحب نے وہی پہلے والا دفاعی جملہ کہہ دیا کہ انہوں نے اپنے پر لگائے الزامات کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے مفتی جی ایسی چھوٹی موٹی باتوں اور حرکات کو برا نہیں سمجھتے۔ اب کم از کم کوئی تو ان کی نیک نیتی اور معصومانہ حرکات کا نوٹس لے کیونکہ بگڑے بچے کو سدھارنا بھی ضروری ہے..

متعلقہ خبریں