پلانٹ کون سا کام کر رہا ہے جو عملے کو تنخواہ دیں

2017 ,جون 14



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ہو سکتا ہے حکومت نے یہ سوچ کر تنخواہ نہ دی ہو کہ پلانٹ کون سا کام کر رہا ہے جو عملے کو تنخواہ دیں۔ آئے روز جب دیکھو یہ پلانٹ کبھی فنی خرابی کے باعث، کبھی بوائلر پھٹنے سے کبھی کچھ تو کبھی کچھ کے اعلان کے ساتھ بند پڑا ہوتا ہے۔ آئے روز کبھی مقامی کبھی چائنا کی اور کبھی جرمنی کی ٹیم بلائی جاتی ہے جو اس تن مردہ میں جان ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔ مگر یہ مرد بیمار دو چار قدم چل کر ہانپتا کانپتا پھر بیٹھ جاتا ہے۔ اب ظاہر ہے جو حال پلانٹ کا ہے وہی اس میں کام کرنے والے مزدوروں کا ہی ہو گا۔ یہ سفید ہاتھی چلے گا تو کچھ کمائے گا۔ جب سرکس بند پڑا ہو تو آمدنی کہاں سے ہو گی، تنخواہیں کہاں سے ملیں گی۔ اب کوئی حکومت اور پاور پلانٹ انتظامیہ سے پوچھے کہ یہ سفید ہاتھی پالا ہی کیوں تھا جو مسلسل کروڑوں روپے کھانے کے بعد بھی کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ اربوں روپے کی لاگت کے باوجود یہ چل نہیں رہا تو اس میں کام کرنے والے مزدوروں کا کیا قصور جو بیچارے پہلے ہی روزگار کی وجہ سے پریشان ہیں۔ ان کی روزی روٹی پر تو لات نہ ماریں۔ یہ کون سے بڑے افسر یا انجینئر ہیں جن کی فی کس لاکھوں روپے تنخواہ ہوتی ہے۔ یہ بیچارے تو چند ہزار کے دیہاڑی دار یا ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کا پلانٹ کے چلنے یا بند ہونے سے کیا تعلق۔ حکومت ماہ رمضان اور آنے والی عید کا ہی خیال کرے اور ان کو تنخواہیں دے تاکہ وہ بھی احتجاج کرنے کی بجائے سکون سے حکومت کو دعائیں دیں۔

متعلقہ خبریں