افسوس بدبخت لوگوں نے مقدس سفر کو بھی منشیات فروشی پر لگا دیا

2017 ,جون 14



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): پہلے کیا کم بدنامیاں پاکستانیوں کے حصہ میں آتی ہیں کہ اب یہ عمرہ اور حج کے نام پر جانے والے نیک نام شہری بھی اپنے ہم وطنوں کو مزید بدنام کرنے کے لئے ایسی گھناﺅنی حرکتیں کر رہے ہیں۔ یہ کتنی اذیت ناک بات ہے کہ آپ یہاں سے تو عمرہ کے نام پر جا رہے ہوںاور اندر خانہ آپ منشیات کی سمگلنگ کر رہے ہوں۔ ہماری جگ ہنسائی نہیں ہو گی تو کیا ہمیں حسن کارکردگی کے میڈلز دئیے جائیں گے۔ یہ دونوں بدبخت میاں بیوی شکر ادا کریں کہ پاکستان میں اپنے وطن میں پکڑے گئے اگر سعودی عرب میں پکڑے جاتے تو اب تک ان کا بینڈ بج چکا ہوتا۔ وہاں ان کی سزا صرف اور صرف موت تھی وہ بھی سر قلم کر کے۔ عمرہ کا سفید احرام پاکیزگی کی علامت ہے۔ بڑے سے بڑا دنیادار بھی یہ پہن کر اپنی خباثتیں اپنے لباس کی طرح اتار کر احترام سے زائر حرم بن جاتا ہے۔ مگر افسوس بدبخت لوگوں نے اس مقدس سفر کو بھی منشیات فروشی کے حوالے سے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس بات کی اصل تہ تک پہنچنا ضروری ہے کہ ملک میں وہ کون لوگ ہیں جو یہ کام کر رہے ہیں زائرین کو استعمال کر رہے ہیں۔ آخر یہ میاں بیوی نے اتنی بھاری مقدار میں دنیا کی مہنگی ترین ہیروئن وہ بھی 6 کلو تک تو کسی کھلے بازار سے چند سو روپوں میںتو نہیں لی ہو گی۔ اصل مجرموں کا سراغ لگانا چاہئے کہ وہ کون سے بدذات و بدبخت مافیاز ہیں جو یہ کام منظم طریقے سے کر رہے ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ لے جانے والے پکڑو اور انہیں سزا دو۔ جس نے یہ کام کرایا اس کو کچھ مت کہو چاہے اس کے گودام میں ہزاروں کلو ہیروئن موجود ہو اور وہ مزید کئی زائرین کبوتروں کو بھٹکانے کی تیاری کر رہے ہوں۔

متعلقہ خبریں