جو لوگ پیدل نہیں چلتے وہ عقل سے پیدل ہو جاتے ہیں

2017 ,جولائی 16



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): اس رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ پیدل چین کے لوگ چلتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے ان کی ترقی کی رفتار بھی تیز ہو گئی۔ اسی طرح یورپی لوگ بھی پیدل چلنے میں سب سے آگے ہیں۔ ان کی ترقی بھی دیکھ لیں قابل رشک ہے جبکہ ہم ابھی تک ”رشک قمر“ والے نغمے سے آگے نہیں جا سکے۔ یہ ساری پیدل چلنے والی اقوام آج کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہیں اور ہم ہیں کہ ابھی تک پیدل چلنے سے بھی گریزاں ہیں۔ عقل سے پیدل ہونے میں البتہ ہمارا مقابلہ شاید ہی کوئی اور قوم کرسکے۔ اس سروے رپورٹ کو پڑھنے کے بعد تو لگتا ہے کہ جو لوگ پیدل نہیں چلتے وہ عقل سے پیدل ہو جاتے ہیں۔ شاید اسی لئے دنیا بھر میں پیدل چلنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔ جو لوگ اس اپیل پر کان نہیں دھرتے ان کم عقلوں میں ہم بھی شامل ہیں بلکہ سچ کہیں تو کچھ زیادہ ہی شامل ہیں۔ ایک وقت تھا ہمارے ملک میں گاڑیاں خال خال ہوتی تھیں۔ صرف امرا کار رکھتے تھے، آج کل ہر ”بے کار“ کار والا بنا پھرتا ہے۔ متوسط گھرانے ایک عدد سکوٹر یا موٹر سائیکل کے مالک ہوتے تھے۔ باقی سب سفید پوش فخر کے ساتھ سائیکل جیسی عوامی سواری پر فخر سے آتے جاتے تھے۔ اب ہر ایک موٹر سائیکل پر مرا جا رہا ہے، چاہے ادھار لے کر یا قسطوں پر ہی کیوں نہ لے، یہی تن آسانیاں ہمیں لے ڈوبیں اور ہم بہت پیچھے رہ گئے کیونکہ ہماری عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ چین اور یورپ میں آج بھی سائیکل کو بہتر اور محفوظ سواری سمجھا جاتا ہے۔ یہ ورزش کا بہترین ذریعہ بھی ہے، انسان کو جوان اور صحت مند رکھتی ہے اور ایک ہم ہیں کہ ہمیں سائیکل سے شرم آتی ہے۔

متعلقہ خبریں